جوہری آلات: اسرائیلی تاجر ملوث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ میں مقیم ایک اسرائیلی تاجر کو ایک امریکی عدالت میں پیش کیا گیا ہے جہاں اسے جوہری اسلحہ کو چلانے والے آلات پاکستان کو فروخت کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ کے ریڈیو کے مطابق اسرائیل میں پیدا ہونے والے اس تاجر اشعر قرنی کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے جہاں امریکی حکام نے اس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جوہری اسلحہ چلانے والے آلات بیرون ملک اسمگل کیے۔ اشعر کو محض کچھ ہی دیر کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ استغاثہ کے مطابق اس تاجر نے پاکستان اور جوہری اسلحہ کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کو وہ آلات فراہم کیے جن کی مدد سے جوہری اسلحہ چلایا جاسکتا ہے۔ دریں اثناء امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جنوبی افریقہ میں مقیم اسی اسرائیلی نژاد تاجر نے بھارت کو بھی ایسے ہی آلات فراہم کیے۔ اے پی کے مطابق استغاثہ کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے کاغذات اور دستاویزی ثبوت و شواہد میں فورٹیک مارکیٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ سے منسلک ایک بھارتی تاجر رگھویندرا راؤ عرف ’رگھو‘ کی وہ ای میل بھی شامل ہے جس میں تنبیہ کی گئی ہے ’خریدار کے نام کا حوالہ دینے کے معاملے کو نظرانداز کرنے میں ذرا محتاط رہنا۔۔۔‘ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ فورٹیک مارکیٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ سے منسلک ایک بھارتی تاجر رگھویندرا راؤ عرف ’رگھو‘ راکٹ بنانے والے دو بھارتی اداروں کے لیے مواد کی خریداری کی خفیہ طور پر کوشش کرتا رہا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس سلسلے میں تبصرے کے لیے جب رگھویندرا راؤ عرف ’رگھو‘ سے ای میل ہی کے ذریعے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ انہوں نے رگھویندرا راؤ کی یہ ای میل اس وقت حاصل کی تھی جب وہ قرنی کی گرفتاری کے وقت اس سے برآمد ہونے والے ایک لیب ٹاپ اور چھ کمپیوٹر ڈسکس کا جائزہ لے رہے تھے۔ قرنی کو حکام نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ سال نو کی تقریبات منانے ڈینور پہنچا تھا۔ اگرچہ اس نے خود پر عائد ان الزامات سے انکار کیا ہے تاہم استغاثہ کی کوشش ہے کہ عدالت کو اس امر پر قائل کرلیا جائے کے مقدمے کی سماعت کے دوران اشعر قرنی کو جیل میں رکھا جائے۔ امریکہ غیر قانونی طور پر جوہری اسلحہ و ٹیکنالوجی کے حصول اور پھر ان کی لیبیا، ایران اور شمالی کوریا منتقلی کے غیر قانونی کاروبار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کے جوہری اسلحہ کے خالق اور خان ریسرچ لیبارٹریز کے سربراہ و سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اعتراف کیا تھا کہ وہ اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث رہے ہیں اور یہ کہ یہ سب کچھ انہوں نے اپنی انفرادی حیثیت میں کیا اور حکومت پاکستان کا اس سارے غیر قانونی کاروبار سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ عدالت میں استغاثہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے دستاویزی ثبوت و شواہد و کاغذات میں اسرائیلی تاجر اشعر قرنی کے ایک پاکستانی ادارے پاک لینڈ پی ایم ای سے منسلک ایک شخص ہمایوں خان سے رابطے کے شواہد بھی موجود ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ان ہی میں سے ایک پیغام ہنگامی بنیادوں پر کی خان کی جانب سے کی جانے والی وہ درخواست بھی ہے جس کے تحت گزشتہ مئی میں اشعر قرنی سے کیا گیا تھا کہ وہ ایم نائن ایل سائیڈ وائینڈر ساخت کے میزائل کے لیے انفرا ریڈ سینسر خریدے۔ پاکستان ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے یہ میزائل اپنے ایف سولہ طیاروں میں استعمال کرتا ہے۔ اے پی کے مطابق امریکی نائب اٹارنی جے براٹ کا مؤقف ہے کہ خان کے اس پیغام سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ اشعر قرنی کو بہت اچھی طرح اندازہ تھا کہ خان کے رابطے پاکستانی فوج سے بھی ہیں۔ اے پی کے مطابق ہمایوں خان نامی اسی شخص کی ایک اور درخواست سے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ منفی شعاعوں کی نلکی کے ذریعے برقی رو کے تغیر کی تصویر کھینچنے والے ایک جدید ترین آلے کا سودا بھی کیا گیا ہے جو جوہری اسلحہ و تنصیبات میں استعمال ہوسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||