جاپان میں سخت حفاظتی انتظامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان نے ممکنہ دہشت گرد حملوں کے پیش نظر ہوائی اڈوں، ایٹمی بجلی گھروں اور سرکاری دفاتر کے لئے سکیورٹی کے انتظامات میں سختی کر دی ہے۔ ٹوکیو میں پولیس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ مارچ میں عراق پر کئے گئے حملے کے بعد اب جاپان میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اقدام کسی اطلاع کی بنیاد پر کیا گیا ہے یا نہیں البتہ یہ ضرور کہا کہ اس کی ایک وجہ ملکی فوج کا حال ہی میں عراق روانہ کیا جانا ہے۔ جاپان میں سکیورٹی الرٹ کے باعث ین کی قیمت امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید کم ہو گئی ہے۔ جاپان میں نیشنل پولیس ایجنسی کے ایک افسر نے، اس شرط پر کہ ان کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا، بتایا ہے کہ ملک کے چھ سو پچاس اہم مقامات اور تنصیبات پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں جن میں وزیراعظم کی رہائش گاہ اور امریکی سفارتخانہ بھی شامل ہیں۔ جاپان میں سکیورٹی سخت کرنے کا اقدام سو فوجیوں کو انسانی ہمدردی کے مشن کے تحت جنوبی عراق روانہ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ جاپان ایک ہزار پر مشتمل فوجیوں کی بری، بحری اور فضائی کمک عراق میں امریکی فوج کی مدد کے لئے بھیجے گا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد بیرون ملک تعینات کی گئی جاپانی فوج کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ جاپان میں رائج امن پسند اور صلح جُو آئین کے حوالے سے حالیہ اقدام خاصا متنازعہ حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس ہفتے کے اوائل میں ٹوکیو میں وزارت دفاع کے قریب رات گئے دو دھماکے بھی ہوئے لیکن ان واقعات میں کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ جمعہ کو جاپانی ذرائع ابلاع نے کہا تھا کہ عراق بھیجے جانے والے جاپانی مشن کے مخالف بائیں بازو کے گروہ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||