ایران کو امریکی انتباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان بولٹن نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران کے معاملے پر کوئی اقدام کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے کیونکہ ایران جوہری منصوبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جون بولٹن نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو ایران میں خفیہ جوہری ٹیکنالوجی کا پتہ چلا ہے۔ اطلاعات کے مطابق معائنہ کاروں کو یورینیم سینٹریفیوج کے ڈیزائن ملے ہیں اور یہ سینٹریفیوج ہتھیاروں میں استعمال کے قابل مواد تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کا جوہری منصوبہ فوجی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بدھ کو صدر جارج بش نے کہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بین الاقوامی معاہدوں میں سختی کی جائے۔ صدر بش نے کہا تھا کہ ایران اور شمالی کوریا نے ان ضابطوں میں کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا ہے اور پرامن مقاصد کے نام پر یورینیم کو افزودہ کیا ہے۔ تاہم اب اسے بند ہونا چاہیے۔
صدر بش نے عالمی ادارہ برائے ایٹمی توانائی، آئی اے ای اے پر بھی کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو ایٹمی سرگرمیوں پر روک تھام کے ضوابط کا اطلاق کرنے کے لیے کام کرنے والی کمیٹی میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس پر شک کیا جا رہا ہے کہ اس نے ایٹمی ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ آئی اے ای اے کے علاوہ چین، بھارت اور پاکستان نے صدر بش کی تقریر کی حمایت کی ہے۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان بولٹن نے کہا کہ ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایران اپنا جوہری منصوبہ بدستور آگے بڑھا رہا ہے‘۔ برلن میں ہونے والی ایک کانفرنس میں جان بولٹن نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اس بات پر سنجیدگی سے غور کریں گے کہ ہمیں اب ایران کے بارے میں کیا قدم اٹھانا ہے‘۔ اس کے برعکس ایران کے وزیر خارجہ کمال خرازی نے تردید کی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمال خرازی نے کہا کہ ’ثبوت بھی انہی لوگوں کو پیش کرنے ہوں گے جو الزام عائد کر رہے ہیں۔ ہمیں کچھ بھی پوشیدہ رکھنے کی ضرورت نہیں اور ہم اس بات کے لئے بھی تیار ہیں کہ آئی اے ای اے کے انسپکٹر ہمارے ملک میں آ کر سنجیدگی سے معائنہ کریں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||