| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران مطالبات ماننے پر تیار
ایران نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں سے اپنی جوہری تنصیبات کا معائنہ کروانے کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کرے گا۔ ساتھ ہی اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ عارضی طور پر یورینیم کی افزودگی معطل کر رہا ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہ معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران نے اقوامِ متحدہ کے جوہری پروگرام کے نگراں ادارے کے تمام بڑے مطالبات پورے کردئے ہیں۔ یہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام میں ایک بڑی پیش رفت ہے اور یہ پیش رفت تہران میں یورپی یونین کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے دوران سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل یورپی یونین کے وزراء خارجہ نے کہا تھا کہ وہ جوہری مسئلے پر ایران سے مذاکرات کے متعلق پُر امید ہیں۔ وزیرِ خارجہ کمال خرازی نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام بلکل شفاف ہے۔ تہران میں ایرانی وزیرِ خارجہ کمال خرازئی سے ملاقات کے بعد جرمنی کے وزیرِ خارجہ جوشکا فشر نے کہا ہے کہ ایران پروگرام کے شفاف ہونے پر معاہدہ ایک اہم سنگِ میل ہو گا اور اس میں ناکامی بین الاقوامی برادری کے لئے کافی شدید مشکلات پیدا کر دے گی۔ ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملنےوالے وفد میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزراء خارجہ شامل تھے۔ اس اعلیٰ سطحی وفد کا مقصد ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے بحران کو کسی طرح رفع کرایا جاۓ۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزراۓ خارجہ پر مشتمل یہ وفد، توقع ہے کہ ایران کو پیش کش کرے گا کہ اگر وہ اپنی جوہری سہولتوں کے سخت تر معائنے کے لۓ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کا مطالبہ قبول کرلے تو اس کے پر امن جوہری پروگرام میں یہ ملک اس کی مدد کریں گے۔ برطانوی وزیرِ خارجہ جیک اسٹرا، فرانسیسی وزیرِخارجہ ڈومنیک دو ولیپاں اور جرمن وزیرِ خارجہ جوشکا فشر منگل کو تہران میں ایرانی صدر محمد خاتمی سے مشترکہ طور پر ملاقات کر رہے ہیں تاکہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں بین الااقوامی تشویش پر بات ہو سکے۔ واضح رہے کہ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) نے ایران کو یہ ثابت کرنے کے لۓ اس ماہ کے آخر تک کی مہلت دی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ بین القوامی ادارے نے ایران سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی سمجھوتے کے علاوہ اپنے پروگرام کی مزید نگرانی کے لۓ اضافی پابندیاں بھی قبول کر لے۔ اس سلسلے میں فریقین نے گزشتہ ہفتے بات چیت کی ہے۔سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سمجھوتے پر آمادہ کرنے کے لۓ فرانس جرمنی اور برطانیہ نے نہ صرف ایران سے خفیہ بات چیت کی ہے بلکہ تکنیکی امداد کی بھی پیش کش کی ہے۔ ایرانی صدر محمد خاتمی نے کہا ہے کہ وہ اس مناقشے کے حل کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔البتہ ایران جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ اگر مغربی سفارتکاری کے نتیجے میں ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کی اچانک معائنہ کاری کے حق کو تسلیم کر لیا تو ایران بین الاقوامی جوہری ادارے سے اس طرح کا سمجھوتہ کرنے والا اسی واں ملک ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||