| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جوہری سرگرمیاں جاری رہیں گی‘
ایران نے اعلان کیا ہے کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کا وفد ملک کی جوہری تنصیبات کے موضوع پر مزید مذاکرات کے لئے جمعرات کو ایران پہنچ رہا ہے۔ وفد کا یہ دورۂ ایران ایک ہفتے قبل ہونا تھا تاہم اسے ایران کی درخواست پر مؤخر کردیا گیا تھا۔ آئی اے ای اے نے ایران کو اس بات کے ثبوت فراہم کرنے کے لئے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کررہا ہے، اکتوبر کے اختتام تک کا وقت دیا ہے۔ تاہم ایران نے ہتھیار نہ بنانے سے متعلق بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ایک بار پھر اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ وہ اپنی جوہری سرگرمیاں جاری رکھے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ ایران یورینیئم کی افزودگی سمیت اپنی جوہری سرگرمیاں ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے ایران کی اس تردید کو بھی دہرایا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کررہا۔ گزشتہ ہفتے جوہری توانائی کے ادارے کا کہنا تھا کہ ایران میں موجود اس کے معائنہ کاروں کو ایران کی ایک اور جوہری تنصیبات کے مقام پر بھی جوہری اسلحہ میں استعمال کئے جانے کی حد تک افزودہ یورینئم کا شواہد ملے ہیں۔ تاہم ایران میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس تاخیر کا سبب شاید یہ ہے کہ قدامت پسند جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی سے مکمل لاتعلقی اختیار کرلے اور جبکہ اعتدال پسندوں کا کہنا ہے کہ ایران کو تعاون کرنا چاہیے تاہم امریکی دباؤ کے آگے کوئی بھی سر تسلیم خم کرنے کو تیار نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||