| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارے سے تعاون کا وعدہ
ایران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ اس ادارے نے بدھ کو ایک قرارداد میں اس وجہ سے ایران کی مذمت کی تھی کہ اس نے ماضی میں غیر اعلانیہ طور پر اپنی جوہری سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ایران کی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سیکریٹری حسن روحانی نے جو جوہری معاملات کے انچارج ہیں، ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایران جلد ہی اس معاہدے پر دستخط کر دے گا جس کے تحت اسے سخت معائنے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران مستقبل میں اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر شفاف رکھے گا۔ حسن روحانی کی باتوں سے ظاہر تھا کہ ایران کو جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے بورڈ آف گورنرز کی قرارداد سے ناخوش نہیں ہے حالانکہ اس قرارداد میں ایران کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور اسے خبرادار کیا گیا ہے کہ آئندہ اس کی کسی بھی ناکامی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد سے ایران کی بہت سی خواہشات پوری ہوئی ہیں جبکہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ حسن روحانی نے کہا کہ ایران کو کسی قسم کی کوئی فکر نہیں تھی کیونکہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پر امن ہے اور اسے کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں۔ ایران اس معاہدے کی بھی پاسداری کرتا رہے گا جو اس نے تین مغربی ملکوں یعنی برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے ساتھ کیا تھا۔ ان تین ممالک نے ایران سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ جوہری توانائی کے ادارے کے ساتھ تعاون کرے اور اسے مطمئن کر دے تو وہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس کے ساتھ تعاون کریں گے۔ ان تین ممالک کی وجہ سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی ہوئی ہے۔ حسن روحانی نے یورپی ممالک کی تعریف کی کہ انہوں نے معاملہ فہمی سے کام لیا اور بات چیت کے دوران بڑے کھلے انداز کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے برعکس بقول حسن روحانی کے، امریکہ کی دھونس اور دھمکی کی پالیسی کو شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کی کامیاب مثال کو دیکھتے ہوئے شاید امریکی دماغ میں یہ بات آ جائے کہ وہ غلطی پر ہے اور اس اپنے موقف پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ حسن روحانی نے کہا کہ امریکی پچھلے سال دو مرتبہ جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے اور وہ اس طرح کہ پہلے انہوں نے یہ کہا کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار ہیں اور پھر یہ کہا کہ ایران کے پاس خطرناک جوہری ہتھیار ہیں۔ ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ صدر جارج بش میں اتنی جرآت بھی نہیں تھی کہ وہ لندن کے دورے کے دوران سڑکوں پر گھوم پھر سکتے۔ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے پاس ابھی کئی ماہ ہیں جس میں اسے یہ تصدیق کرنی ہے کہ کیا ایران اس حوالے سے جو کہتا ہے (کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا) درست ہے یا نہیں۔ لیکن اگر ایران پر آئندہ کوئی ایسا بڑا الزام نہ لگا کہ وہ خفیہ سرگرمیوں میں مصروف ہے تو پھر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس نے موجودہ جوہری بحران کا بڑی اچھی طرح مقابلہ کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||