’نواز شریف کا بیان مکمل طور پر حیران کن ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے برہان وانی کو ’نوجوان رہنما‘ کہنے پر سخت اعتراض کیا ہے۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی انڈین سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے ایک تصادم میں ہلاک ہوگئے تھے۔
٭ ’<link type="page"><caption> کشمیر میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کی جائیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/09/160921_nawaz_un_speech_sa" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> ’مودی نواز شریف کو کشمیر بھولنے نہیں دیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/09/160921_pak_foreign_policy_zz" platform="highweb"/></link>
جولائی میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے وادی کشمیر میں آزادی کے لیے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ وادی میں گذشتہ ڈھائی ماہ سے جاری سخت کرفیو کے باوجود بھارت مخالف مظاہرے نہیں رکے ہیں۔
اس دوران انڈین سکیورٹی فورسز کی گولی سے اب تک 80 سے زیادہ کشمیری نوجوان ہلاک جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں۔
انڈیا کے خارجہ امور وزیر مملکت ایم جے اکبر نے نواز شریف کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے کہا: ’یہ حیرانی کی بات ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد کو ہیرو قرار دے رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کشمیر میں خونی کھیل کھیلنے والے دہشت گرد برہان وانی کی تعریف کرکے پاکستان یہ تسلیم کر رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کا حامی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
خیال رہے کہ بدھ کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71 ویں اجلاس میں خطاب کے دوران محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کی جائے اور اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو کشمیر بھجوایا جائے تاکہ وہ انڈیا کے بہیمانہ تشدد کی تحقیقات کریں اور ذمہ داران کو سزا دی جائے۔‘
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’سیاسی قیدیوں کی رہائی، کرفیو کے خاتمے اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
ایم جے اکبر کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب مکمل طور حیران کرنے والا ہے۔
انھوں مزید کہا: ’پاکستان دہشت گردی کی ستائش کر رہا ہے۔ وانی حزب المجاہدین کا ایک کھلا کمانڈر تھا جو کہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔‘
ایم جے اکبر نے کہا کہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ملک کا ایک لیڈر ایسے پلیٹ فارم سے دہشت گردی کا اس انداز سے پروپیگنڈہ کر رہا ہو۔
ان کے مطابق: ’پاکستان اس وقت ایک حکومت کی طرح نہیں، ایک وار مشین کے طور پر کام کر رہا ہے۔‘
ایم جے اکبر نے کہا کہ پاکستان انڈیا سے بات تو کرنا چاہتا ہے لیکن ہاتھ میں بندوق ساتھ میں رکھ کر ’دہشت گردی اور دوستی ایک ساتھ نہیں چل سکتی ہے۔‘







