’مودی نواز شریف کو کشمیر بھولنے نہیں دیں گے‘

،تصویر کا ذریعہPM Office
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان گذشتہ کئی برسوں سے ملک میں تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کرتا آیا ہے لیکن اپنے اس موقف کو عالمی برادری میں مکمل طور پر تسلیم کرانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
اس کی حالیہ مثال انڈیا کے زیرِ انتظام کمشیر کے علاقے اوڑی میں انڈین فوج پر حملے کے بعد پاکستان پر الزامات عائد کیا جانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی میں قیادت کے فقدان کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دفتر خارجہ نہ زیادہ بات سننا چاہتا ہے اور نہ ہی اپنے موقف کو بھی واضح طور پر کہہ رہے ہیں۔
سابق سفارت کار ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ دفتر خارجہ کا کام پالیسی بنانا نہیں ہوتا بلکہ وہ سول اور ملڑی قیادت کو اپنی تجاویز دیتا ہے۔
’دفتر خارجہ تحریری شکل میں قیادت کو تجاویز دیتا ہے، میں 38 برس ملازم رہا ہوں اور اس میں کبھی تو سول ملڑی قیادت کی جانب سے کوئی جواب آتا ہی نہیں تھا اور کئی جواب ایسے آتے تھے کہ اس پر کچھ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ عمل درآمد ممکن ہی نہیں ہوتا تھا۔‘

انھوں نے کہا اس صورتحال میں دفتر خارجہ کو الزام دینا درست نہیں کیونکہ’موجودہ وزیراعظم نواز شریف کے پاس وزارتِ خارجہ کا قلمدان ہے اور وہ خارجہ امور کے بارے میں کتنا جانتے ہوں گے؟‘
تجزیہ کار کار حسن عسکری نے خارجہ پالیسی میں مسائل پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی صورتحال پر دفتر خارجہ کو دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔
’وزارتِ خارجہ اور وزیراعظم ہاؤس کو کسی بھی صورتحال پر دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے لیکن اگر دیکھا جائے تو وزیراعظم ہاؤس انڈیا کے معاملے پر بات کرنے میں ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے اور اب جا کر وزیراعظم نے کشمیر کے مسئلے پر بات کرنا شروع کی ہے۔ وزیراعطم انڈیا کے معاملے پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اس پر ان کے مخالفین مبینہ طور پر اسے انڈیا کے ساتھ کاروباری تعلقات کو کہتے ہیں، دفتر خارجہ اور وزیراعظم کے رویے میں کافی ابہام ہے اور اس کی وضاحت ہونی چاہیے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ’ایسی صورتحال میں جب یہ خلا چھوڑتے ہیں تو اس کے بعد فوج اپنا بیان جاری کرتی ہے جو جامع اور ٹو دے پوائنٹ ہوتا ہے تو اس پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔‘
انھوں نے بتایا ہے کہ نہ صرف انڈیا بلکہ افغانستان کے معاملے پر بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے جس میں حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے بارے میں پاکستان کی پوزیشن کو زیادہ مناسب انداز میں عالمی برادری کے سامنے نہیں رکھا جا سکا۔
’حکومت زیادہ بہتر طریقے سے حقائق کے ساتھ بات کر سکتی ہے لیکن ایسا کرتے نہیں ہیں اور اسی طرح سے دوسروں کے موقف کو سننے میں بھی یہ ہی مسائل ہیں، آخر افغانستان کی کچھ باتوں کو سننا جا سکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ جیسے کان بند کیے ہوئے ہیں نہ کوئی بات زیادہ غور سے سننا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنی بات کو واضح طور پر کہہ رہے ہیں۔‘
سابق سفارت کار ایاز وزیر کے مطابق خطے کی موجودہ تبدیلی ہوتی ہوئی صورتحال میں ہماری حکومت کی زیادہ توجہ سڑکیں بنانے پر ہیں اور وزارتِ خارجہ بغیر کسی وزیر کے چل رہی ہے۔
’ خارجہ پالیسی ملک کے اندرونی صورتحال سے بھی متاثر ہوتی ہے اس وقت ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو وزیر اعظم کے بارے میں خدشات ہیں لیکن خدشات پر سنجیدگی سے بات نہیں کی جا رہی، دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو ایسے حالات میں خارجہ پالیسی متاثر تو ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
ایاز وزیر کے مطابق اس وقت وزیراعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی وجہ سے کشمیر کے معاملے پر سفارتی محاذ پر کافی سرگرم ہیں لیکن وہاں سے واپسی پر اس معاملے کو بھولیں گے تو بھی اب انڈیا کے وزیراعظم مودی انھیں بھولنے نہیں دیں گے۔‘
ملک کی خارجہ پالیسی اور ہمسایہ ممالک کے خدشات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ اس وقت ملک میں 63 کے قریب مذہبی جماعتیں سرگرم ہیں اور ان میں سے بہت ساری کو ضیا الحق کے دور سے پذیرائی حاصل رہی ہے اور ان حالات میں کسی بھی سنجیدہ سیاسی جماعت کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ ان مذہبی جماعتوں کے ایکشنز پر اعتراض کر سکیں۔
ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق کسی بھی ملک میں نان سٹیٹ ایکٹرز کو خارجہ پالیسی کے بارے میں بات کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہوتی لیکن ملک میں جماعت الوعوۃ جیسی جماعت مسلسل مستقل خارجہ پالیسی پر بیانات دیتی رہتی ہے اور اسے کبھی چیک بھی نہیں کیا گیا۔







