پاکستانی فوج پر لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا الزام

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوج کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول کے اوڑی سیکٹر میں منگل کی صبح بھارتی تنصیبات پر فائرنگ کے 13 سالہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔
یاد رہے کہ اوڑی میں ہی اتوار کی صبح بھارتی فوجی ٹھکانے پر حملہ ہوا تھا جس میں 18 فوجی اور چار شدت پسند مارے گئے تھے۔ اس حملے کے بعد انڈیا کے حکومتی حلقوں میں پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات پر بحث جاری ہے۔
انڈیا کی فوج کا کہنا ہے کہ اوڑی سیکٹر میں پاکستانی رینجرز نے بھارتی تنصیبات پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کا مناسب جواب دیا گیا۔ تاہم کسی جانی نقصان کی ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔
دوسری جانب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں منگل کو بھی ہڑتال اور کرفیو کے باعث عام زندگی معطل رہی۔ مظاہرین نے سرینگر کے بٹہ مالو علاقے میں ایک موٹر سائیکل سوار پر پتھراؤ کیا اور بعد میں موٹر سائیکل کو نذرآتش کیا۔
ایک اور واقعے میں مغربی سرینگر میں ایک صحافی زخمی ہوگیا ہے۔
انڈیا کے سیکریٹری داخلہ نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے منگل کو وادی کا دورہ کیا اور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات کی۔
مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پولیس نے وادی بھر میں گرفتاریوں کی ہمہ گیر مہم شروع کی ہے۔ پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ روزانہ اوسطاً 50 ’شر پسندوں‘ کو حراست میں لیا جاتا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً پانچ ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ان میں علیحدگی پسند رہنماؤں کے علاوہ معروف انسانی حقوق کارکن خرم پرویز بھی شامل ہیں۔ انھیں چند روز قبل دہلی ایئرپورٹ پر جینوا جاتے ہوئے روکا گیا اور کشمیر واپسی کے بعد رات کے وقت سرینگر میں رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 85 سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ زخمیوں میں ایسے سینکڑوں افراد ہیں جن کی آنکھوں میں چھرے لگے ہیں۔
گیارہ ستمبر کو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر حالات معمول پر آ جائیں گے۔ یہ ڈیڈلائن پیر کو ختم ہو جانے کے باوجود وادی بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث حکام بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ کرتے ہیں۔
انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سہولات کو جزوی طور پر بحال کیا گیا ہے لیکن ہڑتال اور ناکہ بندی کی وجہ سے معمول کی سرگرمی ابھی بھی معطل ہیں۔







