’بھیڑ بکریاں بچ گئیں مگر انسانی جانیں نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری احتجاج کی لہر، تشدد اور کرفیو کا کشمیریوں پر کیا اثر پڑا ہے؟ بی بی سی اردو نے سرینگر کی رہائشی ایک خاتون سے رابطہ کیا جن کے تجربات و تاثرات کی پہلی کڑی یہاں پیش کی جا رہی ہے۔
پچھلے دو مہینوں سے میں بہت سے ناموں سے واقف ہوئی ہوں۔ اُن دیہات، اُن علاقوں اور محلوں کے نام جہاں لوگ گھروں سے نکل کر آزادی کی خاطر مارچ کر رہے ہیں۔ کشمیر کے ہر کونے سے، بوڑھے جوان مرد و زن سب کی آنکھوں میں ایک ہی خواب ہونٹوں پر ایک ہی نعرہ، کھیتوں کھلیانوں سے گزر کر، روڈ بلاک سے ہٹ کر، کرفیو، گولیوں اور چھروں کا سامنا کرتے ہوئے، ایک ہی منزل کی طرف۔
اب یہ سب گاؤں، علاقے اور محلے، جو کل تک میرے لیے اجنبی تھے، میری زمین ہو گئے ہیں۔ اب ان کے ناموں سے ایک انسیت ہوگئی جو پہلے نہیں تھی۔
ان دو مہینوں میں بہت سے اجنبی چہروں سے بھی شناسائی ہوئی۔ کاش نہ ہوئی ہوتی۔
یہ چہرے ان بچوں کے ہیں جن کی آنکھیں چھروں کی نظر ہوگئیں، جن کے جسم گولیوں سے چھلنی ہوگئے۔ انشہ، عرافات، یاسمینہ، ناصر۔۔۔ دل چاہتا ہے کہ ان سُوجے چہروں، بےنور آنکھوں اور بے حس جسموں کو سرکار کی بےرحمی کے گواہ کے طور پر نہیں جانا ہوتا بلکہ اُن چہروں پر کھلی مسکراہٹ، ان کی آنکھوں میں جھلملاتے خواب اور ان ننھے جسموں کے بڑے ارادوں سے شناسائی ہوتی۔

،تصویر کا ذریعہ
ہم سے ان بچوں کی صرف جانیں ہی نہیں چھین لی گئیں بلکہ ان کی معصومیت اور خواب بھی چھین لیے گئے ہیں۔
کچھ دن پہلے انڈیا کا پارلیمانی وفد یہاں کشمیریوں سے بات چیت کرنے آیا۔ اس دن پیرا ملٹری اور پولیس کی فائرنگ میں 600 نہتے کشمیر زخمی ہو گئے۔ یہ کسی ایک دن میں زخمی ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔
انڈیا بہت صاف انداز میں بات چیت کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں کشمیری کیا بول رہے ہیں، صرف ایک ہی لفظ، جو ہسپتال کے بستروں، کرفیو والی گلیوں کی چھتوں سے، گاڑیوں، کشتیوں اور ٹرکوں سے، بند دروازوں اور ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں سے، مصوروں کے کینوسوں سے، شاعروں کے دیوانوں سے، دیواروں کی گریفیٹی سے اور معصوم ہونٹوں کی مسکراہٹ سے سنائی دے رہا ہے۔۔۔ آزادی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
12 ستمبر
کل عید ہے اور کل اس گھیراؤ کو 67 دن ہو جائیں گے۔ ہم نے یہ سفر پچھلی عید سے شروع کیا تھا اور ابھی جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
عید کا دن جشن منانے کا ہوتا ہے۔ ان 66 دنوں کے بعد ہمارے پاس منانے کو بہت کچھ ہے۔۔۔ہمارے لوگ اور ان کا پرامن جلوس، ہمارے شاعر جنھوں نے ہمارے درد کا نچوڑ اپنے اشعار میں ڈھالا، ہمارے اخبار نویس جو ان لوگوں کی کہانیاں ہم تک پہنچاتے ہیں جن کی زبانیں بند کر دی گئی ہیں، ہمارے ڈاکٹر جو رات دن زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں، ہمارے رضاکار جو درد مندوں کی دلجوئی کرتے ہیں، ہماری مائیں جو بہادر ہیں، ہمارے باپ جو سر پر تسلی کا ہاتھ رکھتے ہیں اور ہمارے وہ بچے جن کے چہروں پر ابھی مسکراہٹ باقی ہے۔ عید کا دن سب کے نام۔
13 ستمبر
اس عید پر کرفیو لگا دیا گیا ہے اور انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ٹی وی پر خبروں سے پتا چلا کہ کئی جگہ عید کی نماز بھی نہیں ہو پائی۔
ہم اپنی فیملیوں سے عید کے دن نہ تو بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی ملنے جا سکتے ہیں۔
صبح تو قصائی کے پاس بھیڑ ذبح کروانے کے لیے جانا بھی ایک بڑا مرحلہ تھا۔
مجھے لگتا ہے کہ اس عید پر بہت سی بھیڑ بکریوں کی جانیں تو بچ گئی ہوں گی مگر کتنی انسانی جانیں چلی گئیں اس کی کچھ خبر نہیں۔







