کشمیر میں عید کے دوسرے دن بھی سخت ترین کرفیو

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں عید کے دن تین نوجوان کی ہلاکت کے خلاف ممکنہ عوامی رد عمل کو دبانے کے لیے حکام نے بدھ کو بھی کرفیو میں کس قسم کی کوئی نرمی نہیں کی اور عید کے دوسرے بھی لوگ گھروں میں بند ہیں۔
سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام میں ٹیلی فون کے ذریعے بتایا کہ عید کے موقع پر کشمیر بھر میں انتہائی سخت کرفیو نافذ ہے اور زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
ریاض مسرور کے مطابق حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس سخت ترین کرفیو اور پابندیوں پر جمعرات کی شام کو نظر ثانی کریں گے جس کے بعد ان میں نرمی کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ریاض مسرور نے کہا کہ کشمیر میں واقعتاً اب سانس لینا بھی دوبھر ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اب اشک آور گیس کی جگہ جو ’چلی بم‘ یا مرچوں والے بم استعمال کر رہی ہیں جن سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے اور انسان کا دم گھٹنے لگاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے بتایا کہ جب یہ چلی بم گلی اور محلوں یا گنجان آباد علاقوں میں استعمال کیے جاتے ہیں تو یہ گیس بند دروازوں سے کھڑکیوں کے باوجود گھروں میں داخل ہو جاتی ہے اور معصوم بچے اور عورتیں بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ کشمیر میں دکانیں، مارکیٹیں ، کاروبار، بینک، نجی اور سرکاری دفاتر، کلینکس، سکول، کالج ، تمام تعلیمی اور تربیتی ادارے، حتی کہ مساجد اور امام بارگاہیں، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے اور معمولاتِ زندگی گذشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے معطل ہیں۔
کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور فوج کی تعیناتی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکام نے گذشتہ روز پہلی مرتبہ سری نگر کے چار جنوبی اضلاع میں فوج کو عوامی مظاہروں کو دبانے کے لیے استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔
انھوں نے کہا کہ حالیہ عوامی مظاہروں میں ہر طرح کے فوجی اور نیم فوجی دستوں کو جنھیں عام حالات میں مسلح شورش کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کام میں لایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
فوج کی تعداد کے بارے میں انھوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے اکھٹی کی گئی معلومات کے مطابق کشمیر میں اس وقت چار لاکھ فوجی تعینات ہیں۔ فوج کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ پولیس اہلکار ہیں، سی آر پی ایف کی 34 کمپنیاں تعینات ہیں جن کی کل تعداد 50 ہزار بنتی ہے۔
بھارت کے نیم فوجی دستوں بارڈر سکیورٹی فورس کی 26 کمپنیاں ہیں اور ان سب کے علاوہ سابق عسکریت پسندوں پر مشتمل ایک فورس کے 50 ہزار جوانوں کی خدمات بھی حکام کو حاصل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس طرح کشمیر میں سکیورٹی فورسز کے اہکاروں کی کل تعداد سات لاکھ سے زیادہ بنتی ہے جو 70 لاکھ کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے موجود ہیں۔
ریاض مسروں نے کہا کہ پولیس میں سپیشل ٹیرارزم سکواڈ کے دستوں کو بھی نہتے مظاہرین کے خلاف گلیوں اور بازاروں میں اتار دیا گیا ہے۔
کشمیر میں آٹھ جولائی کے بعد سے جاری عوامی احتجاج میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 80 ہو گئی ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق اب تک سات ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت ایسے نوجوانوں کی ہی جو چھرے لگنے سے جزوی یا مکمل طور پر اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں۔
کشمیر میں بھارت کے اپنے ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق کشمیر میں اب تک 13 لاکھ چھروں والے کارتوس استعمال ہو چکے ہیں۔







