اوڑی کی اہمیت کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
اوڑی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا ایک شمالی سرحدی علاقہ ہے۔ اس کی شکل پیالے کی طرح ہے، جو جنگلوں سےگھرا ایک پہاڑی علاقہ ہے۔
یہ علاقہ ایک طرح سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان آزادی کے بعد سے جاری جدوجہد کی پہچان کہلاتا ہے۔
سنہ 1948 میں انڈیا پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر میں ہونے والی دراندازی کی مخالفت میں اقوام متحدہ گیا تھا۔
اتوار کو اوڑی میں شدت پسندوں نے انڈین فوج کی چھاؤنی پر حملہ کیا، جس میں فوج کے 17 جوانوں کی موت ہو گئی اور متعدد فوجی زخمی بھی ہوئے۔
یہ حملہ وادی کشمیر میں گذشتہ 26 سال سے جاری مبینہ دراندازی اور مسلح جنگجو تحریک میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔
سرینگر سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اوڑی کی اہمیت کیا ہے؟ صحافی بینو جوشی اس کی تفصیلات پیش کر رہی ہیں۔
پیر کو کنٹرول لائن کے پار پاكستان جانے والی بس نے اوڑی سے جب سواریوں کو اٹھایا تو اس جگہ کی ایک دوسری تصویر سامنے آئی، جو دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کی عکاس تھی۔

دراصل، اپریل سنہ 2005 میں ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے ایل او سی پار بس سروس کی ابتدا کی تھی۔ اوڑی اس بس سروس کا اہم مرکز ہے، کیونکہ وہ انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا اور پاکستان کی تقسیم سے پہلے اوڑی کاروبار کے لیے اہم مرکز تھا، ٹھیک اسی طرح سے جس طرح سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد اور راولپنڈی ہوا کرتے تھے۔
یہ علاقہ انتہائی خوبصورت ہے، پر سکون دریائے جہلم اس علاقے کی خوبصورتی کو مزید بڑھاتا ہے۔
سنہ 1948 کے بعد سے اوڑی فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل ہوتا گیا۔ یہاں کے پہاڑوں پر اپنی دوربین اور ہتھیاروں سے لیس فوج کے جوان نظر آنے لگے جو کہ سرحد پر مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اپریل سنہ 2005 میں جب انڈیا کے اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایل او سی پار بس سروس کا افتتاح کیا تھا، تب سرینگر سے مظفرآباد کے 130 کلومیٹر طویل سفر کے اہم مرکز کے طور پر اوڑی کی پرانی اہمیت لوٹنے لگی تھی۔
ایل او سی پار سے لوگوں کے آنے جانے اور اوڑی کے راستے ہونے والے کاروبار کا موازنہ مقامی افراد برلن کی مشہور دیوار کے گرنے سے کرنے لگے تھے۔
تاہم اسی سال اوڑی کو زلزلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس زلزلے سے سرحد کے دونوں طرف لوگوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
اس وقت اس علاقے میں صلح و آشتی کی تصویر بھی نظر آئی تھی، اور اس وقت انڈین فوجیوں نے بڑے بڑے پتھروں میں دبے پاکستانی فوجیوں کو بچانے کا کام کیا تھا۔ زلزلے کی رپورٹنگ کرتے وقت یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔
اس زلزلے میں انڈین فوج نے اپنے 54 جوان کھو دیے تھے، لیکن اپنے نقصان کی فکر کیے بغیر انڈین فوج کے جوانوں نے سینکڑوں لوگوں کی جان بچانے کا کام کیا تھا۔
مقامی کشمیری آج بھی اس بات کے لیے فوج کے احسان مند ہیں کہ کس طرح بھارتی فوج کے جوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر عام شہریوں کو بچانے کا کام کیا تھا۔

یہ باشندے پہاڑی زبان بولتے تھے اور یہ کشمیری بولنے والی آبادی سے مختلف تھے۔
دونوں برادریوں یعنی پہاڑی اور وادی کے اصل کشمیریوں میں صرف مذہب ہی نقطۂ اتصال ہے۔ اوڑی میں رہنے والی ایک لاکھ آبادی کا 60 فیصد حصہ پہاڑی باشندوں پر مشتمل ہے۔
ان لوگوں کے انڈین فوجیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔ یہ لوگ انڈین فوج کے لیے پورٹر یعنی قلی کا کام کرتے رہے ہیں۔
جبکہ کشمیری نژاد اور فوج آپس میں ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری مسلمانوں پر کنٹرول لائن کے پار سے آنے والے شدت پسندوں کو پناہ دینے کا شبہ کیا جاتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
دراصل، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے مبینہ دراندازی کے لیے اوڑی اور اس کے درے مثالی راستے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اوڑی میں بہت برفباری نہیں ہوتی اور اس کا موسم وادی کے باقی حصوں کے مقابلے میں گرم رہتا ہے۔
ایسے میں ظاہر ہے کہ اتوار کو ہونے والے شدت پسند حملے کے بعد شک و شبے کے ماحول میں اضافہ ہوگا۔ فوج کے جوان غصے میں ہیں جبکہ مقامی باشندے خوفزدہ نظر آ رہے ہیں۔
فوج کے جوان مقامی لوگوں کو غدار کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ مقامی لوگوں کو جوابی پرتشدد کارروائیوں کا ڈر ستا رہا ہے۔

اوڑی حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے دونوں طرف سے فائرنگ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
نومبر سنہ 2003 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فائر بندی سے قبل علاقے کی حالت ایسی ہی تھی۔ تاہم اوڑی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پریشان کن حقائق کے درمیان دریائے جہلم پرسکون انداز میں اسی تسلسل سے بہہ رہا ہے۔







