’انڈیا میں جوابی فوجی کارروائی کے لیے بڑھتا دباؤ‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا کے زیر انتطام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں فوج کے کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد انڈیا میں جوابی فوجی کاروائی کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
اتوار کے حملے میں کم از کم 17 بھارتی فوجی مارے گئے ہیں۔ انڈیا نے اس حملے کے لیے پاکستان کو براہ راست ذمے دار قرار دیا ہے۔ پاکستان نے اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
٭ <link type="page"><caption> کشمیر: انڈین فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ، 17 فوجی ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/09/160918_kashmir_uri_attack_mb" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> ’پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جانا چاہیے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/09/160918_kashmir_attack_reaction_sa" platform="highweb"/></link>
وزیراعظم مودی نے کہا ہے جو بھی اس حملے کے ذمےدار ہیں وہ بچ نہیں سکیں گے۔ کئی دیگر وزیروں کی طرف سے بھی سخت بیانات دیے گئے ہیں۔
وزیراعظم کے دفتر کے ایک اہم وزیر جیتیندر سنگھ نے کہا کہ اس حملے کے جواب میں کوئی کاروائی نہ کرنا بزدلی ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اخبارات نے فوجی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ’عسکری ماہرین پاکستان میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں اور پاکستان کی بعض فوجی چوکیوں پر محدود نوعیت کے حملے کرنے کے امکانات سمیت کئی طرح کی فوجی کارروائیوں کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔‘
انڈیا میں کئی عشروں میں پہلی بار سیاسی اور فوجی سطح پر اس نکتے پر اتفاق رائے ہوتا نظر آ رہا ہے کہ اوڑی کے حملے کے بعد انڈیا موثر جوابی کارروائی کرے اور پاکستان کو انڈیا کی جانب سے واضح پیغام ملنا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹی وی چینلوں پر سابق فوجی جرنیلوں اور عسکری ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ’انڈیا پاکستان کے خلاف نہ صرف موثر فوجی کارروائی کرے بلکہ ایسی فوجی کارروائی جسے پورا انڈیا اور پوری دنیا دیکھے۔‘
اس طرح کی سنگین صورتحال ممبئی حملے کے دوران پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پاکستانی خطے میں شد ت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے مبینہ ٹھکانے پر فضائی حملہ کرنے کے بارے میں غور کیا تھا لیکن جوابی کارروائی کے آپشن سے وزیراعظم کو مبینہ طور پر اس وقت پیچھے ہٹنا پڑا جب فوج اور خفیہ ایجنسیوں نے اس طرح کی کسی کارروائی کے کامیاب ہونے کے بارے شبہات ظاہر کیے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
و
زیر اعظم نریندر مودی نے ڈھائی برس کے دوران پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کی کئی بار اہم کوششیں کیں۔ لیکن اس مدت میں شدت پسندوں کے ہر حملے کے بعد پاکستان سے انڈیا کے تعلقات نہ صرف بتدریج خراب ہوتے گئے بلکہ بات چیت اور امن کے تمام راستے رفتہ رفتہ مسدود ہوتے گئے۔
اوڑی کا حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ڈھائی مہینے سے شدید کشیدگی کا ماحول ہے۔ کشمیر وادی دو مہینے سے زیادہ عرصے سے ہڑتالوں، احتجاجی مظاہروں اور کرفیو میں محصور ہے۔ اس دوران 80 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں۔
پاکستان کشمیر کی اس صورتحال کو اقوام متحدہ میں بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
وزیر اعظم نواز شریف امریکہ پہنچ چکے ہیں۔اوڑی کے حملے نے انڈیا کے لیے عالمی ادارے میں اپنے دفاع کے لیے یہ جواب فراہم کر دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف اس حملے کے لیے ذمےدار ہے بلکہ وہ بتانے کی کوشش کر ے گا کہ پاکستان کس طرح مختلف شدت پسند تنظیموں کے ذریعے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں شورش پیدا کر رہا ہے۔
ٹکراؤ کی صورتحال پیچیدگی اختیار کر رہی ہے۔ انڈیا نے اپنے سفارت کاروں سے کہا ہے وہ دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں انڈیا کی پوزیشن اور موقف کی وضاحت کریں۔
اوڑی حملے کے بعد تحمل، بات چیت اور امن کی باتیں اب پس منظر میں چلی گئی ہیں۔







