ابا گند اُچھال دیا، ذرا سنبھال لینا

،تصویر کا ذریعہNews Channel TV Grab
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
چونکہ صرف ایک دن گزرا ہے اور ایک روز میں تو صرف دھواں دھاری ہی ہو سکتی ہے۔ اس صف میں میڈیا، سیاستداں، حاضر و سابق فوجی، بھارتی و پاکستانی تجزیہ باز سب برابر۔
بس کچھ بھی کہتے چلے جاؤ بھلے کوئی مطلب ہو کہ نہ ہو۔ آواز سامنے والے کے مقابلے میں بلند رہنی چاہیے مطلب خود بخود ہی نکل آئے گا جیسے بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ کا اوڑی حملے کے دو گھنٹے بعد ہی یہ پتہ چلا لینا کہ حملہ آور پاکستان نے بھیجے۔
اس پر مجھے بلوچستان کے وزیرِ اعلی ثنا اللہ زہری یاد آگئے جنھوں نے کوئٹہ سول ہسپتال میں آٹھ اگست کے خود کش حملے میں 70 ہلاکتوں کے ایک گھنٹے بعد ہی پتہ چلا لیا کہ یہ انڈین را کا کارنامہ ہے یا جماعتِ اسلامی کے رہنما سراج الحق کا اوڑی حملے کے سات آٹھ گھنٹے بعد یہ انکشاف کہ بھارتی فوجیوں پر یہ حملہ خود بھارت نے کروایا ہے تاکہ کشمیر میں جاری تحریک سے دنیا کی توجہ ہٹا کر پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔ (حالانکہ پاکستان اور مُنی بھارت میں پہلے ہی سے بہت بدنام ہیں)
ہو سکتا ہے کہ راج ناتھ سنگھ، ثنا اللہ زہری اور سراج الحق تینوں اپنی جگہ درست ہوں مگر جرم فورینزک سائنس کو حل کرنے دینا چاہیے یا علمِ نجوم کی مدد سے حل ہونا چاہیے؟ میڈیا تو چلو آگ لگانے کے لیے فوری طور پر کچھ بھی کہہ سکتا ہے کیونکہ ریٹنگ چاہیے۔ لیکن پچھلے دو برس سے بالخصوص یہ تمیز کرنا کیوں مشکل ہو رہا ہے کہ سیاستدانوں کو زیادہ ریٹنگ چاہیے یا میڈیا کو۔
فی الحال ہم اس سازشی تھیوری میں نہیں پڑتے کہ کارگل، ممبئی، پٹھان کوٹ اور اب اوڑی کے بارے میں پوری پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو پیشگی اطلاع تھی، آدھی اسٹیبلشمنٹ کو اطلاع تھی یا سارا کام پرائیویٹ پارٹیوں نے پہلے کر دیا اور پھر متعلقہ حلقے کو بتا دیا کہ ابا ہم نےگند اچھال دیا اب تو سنبھال لینا اور ابا نے اماں سے کہا کہ میرے مقابلے میں لوگ باگ تیرا اعتبار زیادہ کرتے ہیں لہٰذا تو نمٹ لینا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
چنانچہ سب نے دیکھا کہ الٹی میٹلی بالآخر کارگل نواز شریف کو، ممبئی زرداری گیلانی کو، اور اب پٹھان کوٹ کے بعد اوڑی بھی میاں نواز شریف کو سلٹانا پڑے گا۔ (جن کے بارے میں پہلے ہی سے تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ وہ بھارت کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔)
فی الحال ہم اس سازشی تھیوری میں بھی نہیں پڑتے کہ جس طرح میاں جی کو کارگل کے بارے میں واجپائی کے دورۂ لاہور کے بعد اور پٹھان کوٹ کا مودی کے دورۂ رائے ونڈ کے بعد پتہ چلا۔ اسی طرح اوڑی میں ہڑا ہڑی حسنِ اتفاق سے میاں جی کی نیویارک روانگی کے ایک روز بعد کیوں ہوگئی حالانکہ میاں جی تو خود اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں کشمیر کیس زور و شور سے لڑنے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔
اب جب وہ جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کی مظلوم جدوجہد پر عالمی توجہ دلائیں گے اور مودی اس توجہ کے توڑ میں اوڑی کو دہشت گردی کی مثال بنا کے پیش کریں گے تو کس کی بات دھیان سے سنی جائے گی ؟ تو پھر کس نے کس کا کیس خراب کیا اور کس نے کس کا بوجھ ہلکا کیا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی نو ماہ پہلے ہی پٹھان کوٹ حملہ جس میں سات بھارتی فوجی ہلاک ہوئے، بھارت اور پاکستان کی فوجی و سویلین قیادت اور دونوں طرف کے میڈیا نے جس ذمہ دارانہ رویے کے ساتھ ہینڈل کیا اور دونوں حکومتوں نے لہجہ دھیما رکھتے ہوئے جس طرح ایک دوسرے کے ساتھ معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں ابتدائی تعاون کیا۔ اوڑی کے معاملے میں وہ عنقا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی 15 اگست کی کشمیر، گلگت، بلوچستان فیم لال قلعہ تقریر کے بعد لگتا ہے کہ صبر و ضبط کی دیگ کا ڈھکن کھل چکا ہے اب جس کے ہاتھ جو آئے یا ہاتھ جل جائے۔
یہ بات ایک اللہ رکھا اور رام لال بھی جانتا ہے کہ دنیا کے تمام پیچیدہ مسئلے تنبو لگا کے مناظرے بازی سے کبھی حل نہیں ہوئے بلکہ میڈیا کے کیمروں سے دور پس پردہ مصالحتی جذبے کے ساتھ ہونے والی سنجیدہ بات چیت کے ذریعے حل ہوئے ہیں۔ بھلے ویتنام کی جنگ کا خاتمہ ہو، مشرقی تیمور کی آزادی ہو کہ فلسطینی اتھارٹی کا قیام۔
لیکن بھارت اور پاکستان نے ہمیشہ اپنے سنگین مسائل کو بقول شخصے ایسے ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کی ہے جہاں اس قدر شور ہو کہ ہر فقرے کا دوسرے کو کچھ کا کچھ مطلب سجھائی پڑے۔ دونوں کی توجہ کہیں اور نگاہیں ان کنڈوں کی جانب ہوں جن سے چار پانچ بے پر کی مرغیاں ریسٹورنٹ سے باہر کی طرف لٹکی ہوئی ہوں اور ان پر سرکریک، سیاچن، تجارت، سارک اور کشمیر لکھا ہو۔ ان مرغیوں پر سورج کی تپش اور خاکروب کی جھاڑو سے اٹھنے والی گرد ایک ساتھ پڑ رہی ہو۔
کیا سنجیدہ مسئلے ایسے حل ہوتے ہیں؟ مسئلے حل ہوں نہ ہوں ریٹنگ البتہ ایسے ہی آتی ہے۔ مسئلہ جائے جہنم میں۔







