ماضی میں کیا ہوا اور اب کیا ہوگا؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی فوج کے ایک بریگیڈ ہیڈ کواٹر پر حملے میں 17 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پھر جنگ و جدل اور انتقامی کارروائی کا ذکر ہے۔
حکومت اور فوج کے مطابق حملہ آور پاکستان سے آتے تھے اور اب اسے سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے، ٹی وی چینل اور اخبارات ممکنہ فوجی کارروائیوں کے ذکر سے بھرے پڑے ہیں۔
لیکن ماضی میں کیا ہوا ہے؟ اور کیا جو ماضی میں ہوا اس سے مستقبل کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟ حتمی طور پر تو نہیں لیکن انداز ہ ضرور لگایا جا سکتا ہے۔
گذشتہ دو دہائیوں میں کرگل کی لڑائی کے علاوہ دو ایسے موقع آئے جب دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔
پہلے دسمبر 2001 میں ہندوستان کی پارلیمان پر حملہ اور پھر سات سال بعد اس کے تجارتی مرکز ممبئی پر۔

،تصویر کا ذریعہ
دونوں مرتبہ ہندوستان میں انتقامی کارروائی کا مطالبہ ہوا۔ پارلیمان پر حملے کے وقت ملک میں بی جے پی کی حکومت تھی اور ممبئی پر حملے کے وقت کانگریس کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارلیمان پر حملے کے بعد آپریشن پراکرم (شجاعت) کے تحت سرحدوں پر فوج جنگ کے لیے تیار کھڑی تھی لیکن صرف دو سال بعد دونوں ملک جنگ لڑنے کے بجائے ’فرینڈ شپ سیریز‘ میں ایک دوسرے کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے اور لائن آف کنٹرول پر دونوں کی توپیں فائر بندی معاہدے کے نتیجے میں خاموش ہو چکی تھیں۔
ممبئی پر حملے کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ بھی زبردست دباؤ میں تھے۔ سڑکوں پر غصہ تھا اور بی جے پی حزب اختلاف میں پہنچ چکی تھی۔
دفاعی تجزیہ نگار پروین سوامی کے مطابق اس وقت من موہن سنگھ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لشکر طیبہ کے ٹھکانوں پر جنگی طیاروں اور میزائلوں سے حملے کرنے پر غور کیا تھا لیکن جب فوج اور انٹیلیجنس سروسز نے کہا کہ وہ کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتے، تو یہ ارادہ ترک کردیا گیا۔
پروین سوامی کے مطابق اس وقت فوج کے سربراہ جنرل دیپک کپور نے بھی کہا تھا کہ ’فوج ایک مختصر اور سرجیکل جنگ کے لیے تیار نہیں ہے۔‘
ممبئی پر حملوں سے شاید باہمی تعلقات کی نوعیت تو ہمیشہ کے لیے بدل گئی لیکن پھر بھی پیش رفت ہوئی کیونک کانگریس کی حکومت بھی اس بنیادی فارمولے پر یقین رکھتی تھی کہ پاکستان سے بات کرنا، بات نہ کرنے سے بہتر ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس لیے ممبئی پر حملے کے صرف 8 مہینے بعد من موہن سنگھ نے جولائی 2009 میں شرم الشیخ کے اعلامیے پر دستخط کیے اور اپنے پاکستانی ہم منصب سے ہاتھ ملایا، اور پھر فروردی 2011 میں تھمپو میں باہمی مذاکرات کے بعد یہ واضح عندیہ دیا کہ اس نے دہشت گردی کے خاتمے کو بات چیت کی بنیادی شرط نہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جنوری میں پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر حملے کے بعد پاکستان نے تفتیش میں تعاون کا وعدہ کیا تھا اور اڑی کے بعد اس نے حکومت کے الزامات کو بے بنیاد بتایا ہے۔ حکومتیں دونوں طرف وہی ہیں بس ان کے تعلقات کی نوعیت بدل گئی ہے۔
مستقبل میں کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ماضی میں جب بھی پاکستان کو سبق سکھانے کے نعرے لگے تو یہ سمجھانے والوں کی آواز بھی کمزور نہیں تھی دونوں کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور بات پلک جھپکتے ہی بگڑ بھی سکتی ہے۔
آگے کیا ہوگا اس کا شاید سب سے واضح اشارہ فوج کے ایک سرکردہ کمانڈر نے اخبار انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے دیا ہے: ’ہم اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا انتقام ضرور لیں گے، لیکن ٹھنڈے دماغ سے سوچ سمجھ کر، اور اپنی پسند کے موقع پر، سیاسی یا پرائم ٹائم نیوز سائیکل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نہیں۔‘







