جنرل اسمبلی سے خطاب کشمیر پر مرکوز

 پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کے مطابق وزیرِ اعظم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا بھی ذکر کریں گے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کے مطابق وزیرِ اعظم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا بھی ذکر کریں گے

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف بدھ کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جو اس ایوان سے ان کا تیسرا خطاب ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے خطے کی موجودہ صوتحال کے پیشِ نظر بدھ کو بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال بھی کیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق نواز شریف متوقع طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ’انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مسئلے کو جلد حل کرنے اور وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب دنیا کی توجہ دلائیں گے۔‘

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اپنی تقریر میں مطالبہ کریں گے کہ انڈیا کو کشمیریوں کے خلاف جاری جارحیت سے روکنے کے لیے عالمی برادری ٹھوس اقدامات کرے۔

اس کے علاوہ وزیراعظم عالمی برادری کو یہ بھی باور کرائیں گے اگر بھارت کو جارحیت سے نہ روکا گیا تو نہ صرف یہ خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم نواز شریف نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے فون پر بات کی اور ان سے خطے میں جاری صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ بھرپور انداز میں پیش کریں گے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ بھرپور انداز میں پیش کریں گے

نیویارک میں محمد نواز شریف چین کے وزیرِ اعظم لی کیچیانگ، ایرانی صدر حسن روحانی کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے بھی ملاقات کریں گے۔

دوسری جانب سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت پر زور دیا جائے گا۔

نیو یارک میں صحافیوں کو بریفینگ دیتے ہوئے اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی دنیا کو یہ واضح پیغام دے گا کہ کشمیریوں کے بنیادی حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کے مطابق وزیرِ اعظم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا بھی ذکر کریں گے۔

خیال رہے کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اوڑی سیکٹر میں کنٹرول لائن کے قریب انڈین فوج کے ایک اڈے پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔