پھر وہی مندر، مسجد کی سیاست

راہول گاندھی نے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کی مہم کا باضابطہ آغاز ایودھیا میں ہنومان گڑھی کے مندر کےدرشن کےساتھ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہSamiratmaj Mishra

،تصویر کا کیپشنراہول گاندھی نے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کی مہم کا باضابطہ آغاز ایودھیا میں ہنومان گڑھی کے مندر کےدرشن کےساتھ کیا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کی مہم کا باضابطہ آغاز ایودھیا میں ہنومان گڑھی کے مندر کےدرشن کےساتھ کیا ہے۔ سنہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد وہ گاندھی فیملی کے پہلے رکن ہیں جنھوں نے ایودھیا کا دورہ کیا ہے۔

ہنومان گڑھی مندر بابری مسجد کے متنازع مقام سے محض ایک کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ بابری مسجد کے مقام پر ایک عارضی رام مندر بنا ہوا ہے۔ راہول گاندھی وہاں نہیں گئے۔ ایودھیا کے بعد راہول کچھوچھا کی مشہور درگاہ میں بھی حاضری دینے والے تھے۔

یو پی میں کانگریس گذشتہ تیس برس سے کمزور ہوتے ہوتے تقریبا ختم ہونے کی دہلیز پرپہنچ چکی تھی جسے راہول زندء کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہSamiratmaj Mishra

،تصویر کا کیپشنیو پی میں کانگریس گذشتہ تیس برس سے کمزور ہوتے ہوتے تقریبا ختم ہونے کی دہلیز پرپہنچ چکی تھی جسے راہول زندء کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

اتر پردیش میں آئندہ برس کے اوائل میں اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ انتخابات انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں کیونکہ یہیں سے یہ طے ہو گا کہ سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں کس کی جیت ہوگی۔

ریاست میں اکھلیش یادو کی سماجوادی پارٹی اقتدار میں ہے۔ سنہ 2012 سے جب سے وہ اقتدار میں آئی ہے تب سے ریاست میں کہیں نہ کہیں ہندو مسلم کشیدگی برقرار رہی ہے۔ مظفر نگر سمیت کئی بڑے فسادات بھی ہو چکے ہیں۔

اکھلیش یادو کی حکومت نے اس پالیسی کے تحت کشیدگی ختم کرنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی کہ ریاست کے 20 فی صد مسلم خوفزدہ ہوکر ان کی پارٹی کی حمایت کے لیے مجبور ہو جائیں گے لیکن مسلمانوں کی اکثریت حکمراں جماعت سے ناراض نظر آتی ہے۔ دوسری جانب شمالی انڈیا میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی حمایت یافتہ ہندو تنظیموں کی پر تشدد گئو رکشا تحریک نے دلتوں کو نہ صرف بی جے پی سےدور کردیا ہے بلکہ اب سیاسی سطح پر مسلمانوں اور دلتوں کا ایک اتحاد بنتا ہو نظر آ رہا ہے۔ اتر پردیش میں دونوں کی اجتماعی آبادی 40 فیصد ہے۔ ریاست میں حکومتیں 30 فیصد کی حمایت سے بنتی رہی ہیں۔

اکھیلیش یادو کی حکومت نے اس پالیسی کے تحت کشیدگی ختم کرنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی کہ ریاست کے بیس فی صد مسلم خوفزدہ ہوکر ان کی پارٹی کی حمایت کے لیے مجبور ہو جائیں گے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشناکھیلیش یادو کی حکومت نے اس پالیسی کے تحت کشیدگی ختم کرنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی کہ ریاست کے بیس فی صد مسلم خوفزدہ ہوکر ان کی پارٹی کی حمایت کے لیے مجبور ہو جائیں گے

مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی دلت، مسلم اور برہمنوں کی حمایت سے ماضی میں اقتدار میں آ چکی ہے۔ اس بار بھی ریاست میں اس کے لیے فضا کافی ساز گار ہے لیکن انتخابات اب ٹیکنالوجی اور جدید تجزیوں اور کمیونیکیشن کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں اس لیے یہ بہت اہم ہوگا کہ مایاوتی کا طریقۂ کار اور حکمت عملی کیا ہوتی ہے۔

اتر پردیش کے انتخابات میں ایک اہم پہلو اس بار کانگریس ہے۔ کانگریس گذشتہ 30 برس سے ریاست میں کمزور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہونے کی دہلیز پر پہنچ چکی تھی۔ اتر پردیش کی کمزوری کا اثر کانگریس کی مرکزی سیاست پر بھی بہت گہرا پڑا ہے۔ کانگریس خود کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس نے اس کے لیے اتر پردیش کا انتخاب کیا ہے۔ پارٹی کی خصوصی توجہ کا محور ریاست کی وہ 120 سیٹیں ہیں جن میں برہمن اور مسلمانوں کا ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ کانگریس دلتوں پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

راہول گاندھی نے ایودھیا کے ایک مندر سے اپنی انتحابی یاترا کا جو آغاز کیا ہے اسے بہت سےمبصرین ’نرم ہندوئیت‎‘ سےتعبیر کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنراہول گاندھی نے ایودھیا کے ایک مندر سے اپنی انتحابی یاترا کا جو آغاز کیا ہے اسے بہت سےمبصرین ’نرم ہندوئیت‎‘ سےتعبیر کر رہے ہیں

اتر پردیش کےانتخابات کانگریس کے مستقبل کے لیے کلیدی اہمیت کےحامل ہیں۔ راہول گاندھی نے ایودھیا کے ایک مندر سے اپنی انتحابی یاترا کا جو آغاز کیا ہے اسے بہت سےمبصرین ’نرم ہندوئیت‎‘ سےتعبیر کر رہے ہیں۔ بھارت میں بی جے پی سخت گیر اور نرم ہندوئیت دونوں کا تجربہ کر چکی ہے۔ اور بالاآخر اسے بھی ترقی اور بہتر نظام حکومت کے ایجنڈے کا ہی سہارا لینا پڑا ہے۔

یہ بات کانگریس اور تمام دوسری جماعتوں کی سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ عوام مذہب کی سیاست سےتنگ آ چکے ہیں اور سمبل ازم سے ملک کا مستقبل نہیں بدلنے والا ہے۔ 20 کروڑ کی آبادی کے ساتھ اتر پردیش ملک کی ان چند ریاستوں میں شامل ہے جو ترقی میں سب سے پیچھے رہ گئی ہیں۔

کانگریس کےلیے بہتر یہی ہو گا کہ وہ ووٹ کے لیے مذہبی علامتوں کا استعمال نہ کرے۔ ملکوں کا مستقبل اور تقدیر مذہب سےنہیں جامع پروگراموں منصوبوں اور بہتر نظام حکومت سے بدلتی ہے۔ مندوں اور درگاہوں کا رخ کرنے کے بجائے راہول گاندھی لوگوں کو یہ بتائیں کہ وہ جس کانگریس کی مہم چلا رہے ہیں وہ اس کانگریس سے کس طرح مختلف اور بہتر ہے جسے عوام نے مستر کر دیا ہے۔ اگر کانگریس اپنی پرانی روش پر قائم رہی تو پھر اسے حکومت نہیں عبادت پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔