95 فیصد لوگ بات چیت کے حق میں ہیں: محبوبہ مفتی

،تصویر کا ذریعہGetty
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے 95 فیصد لوگ بات چیت سے بحالی امن چاہتے ہیں اور صرف پانچ فیصد لوگ اس عمل میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق محبوبہ مفتی نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے کیمپوں پر پتھراؤ کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
وادی کشمیر میں حزب مجاہدین کے مبینہ شدت پسند برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں موت کے بعد گذشتہ 45 دنوں سے وادی میں سکیورٹی کارروائیاں جاری ہیں اور کرفیو بھی نافذ ہے۔
پیلٹ گن کے استعمال سے وادی میں 150 افراد زخمی ہوئے ہیں اور مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد سے 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو کشمیر کے دورے پر ہیں کہا کہ حکومت ایک کُل جماعتی وفد کو وادی میں مدعو کرنا چاہتی ہے۔
پیلیٹ گن کے استعمال کے بارے میں راج ناتھ نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں جو کمیٹی بنائی تھی اس کی رپورٹ دو تین دن میں آئے گی اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
انھوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ جمہوریت اور انسانیت کے دائرے میں رہ کر ان کی حکومت سب کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزارت داخلہ میں ایک افسر تعینات کیا جائے گا جو بھارت کے کسی بھی کونے میں رہنے والے کشمیری لوگوں کی مدد کے لیے براہ راست ذمہ دار ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







