’مسئلہ کشمیر کا حل صرف ترقی کے سہارے ممکن نہیں‘

نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی بھی مانتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی حل نکالا جانا چاہیے اور یہ مسئلہ صرف ترقی کے سہارے حل نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے یہ بات جموں و کشمیر کی اہم اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے ہمراہ دہلی میں وزیرِ اعظم سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔
٭ <link type="page"><caption> کشمیر میں سکیورٹی سخت، دس ہزار اضافی فوجی تعینات</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/08/160818_indian_kashmir_security_sr" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> کشمیر: ’مخملی دستانہ نہیں اب صرف فولادی ہاتھ‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/08/160818_india_kashmir_violence_rwa" platform="highweb"/></link>
اس ملاقات کے بارے میں انڈیا کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم مودی نے ریاست کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا ’بات چیت ہونی ہی چاہیے اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جانا چاہیے۔‘
بیان کے مطابق وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ کشمیر میں حالیہ بدامنی میں جو افراد ہلاک ہوئے ہیں وہ عام شہری ہوں یا سکیورٹی اہلکار، انڈین قوم کا حصہ تھے۔
خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آٹھ جولائی کو عسکریت پسند برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے دوران اب تک 60 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کشمیر میں اس دوران گذشتہ 45 دن سے کرفیو نافذ ہے اور معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے ساتھ وزیر اعظم کی ملاقات تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہی۔
اجلاس کے بعد عمر عبداللہ نے کہا، ’وزیر اعظم نے ہمارے میمو کو قبول کیا۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ سیاسی ہے۔ اس طرح کی صورت حال وقتاً فوقتاً پیدا ہوتی رہتی ہے اور اگر ہم اس کا سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکام رہے تو ہم اپنی غلطیوں کو بار بار دہراتے رہیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم نے بھی تسلیم کیا کہ صرف ترقی میں ہی ان مسائل کا حل نہیں ہے۔ وہ تمام فریقوں سے بات چیت کے حامی نظر آئے۔‘
اپوزیشن کے وفد میں شامل جموں و کشمیر میں مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما محمد یوسف تارگامي نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں وزیر اعظم نے بتایا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ایک مرتبہ پھر جموں و کشمیر جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تارگامي نے کہا، ’ہم نے وزیر اعظم کو بتایا کہ جموں و کشمیر کا معاملہ قانون کے نظام اور سکیورٹی سے منسلک ہے لیکن صرف انھی دو مسائل تک محدود نہیں ہے۔ ہم نے مشورہ دیا کہ اس پرانے زیر التوا مسئلے کو سیاسی طور پر حل ہوگا اور وہ بھی بات چیت کے ذریعہ اس بات چیت میں تمام شراکت داروں کو شامل کرنا پڑے گا۔‘
ادھر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک 17 سالہ لڑکے کی ہلاکت کے بعد حالیہ پرتشدد لہر کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 67 ہوگئی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے سرینگر سے بتایا کہ یہ ہلاکت گذشتہ رات شہر کے قدیم حصے میں ہوئي اس کے بعد تقریباً سات ہفتوں سے جاری کرفیو مزید سخت کر دیا گيا ہے اور جگہ جگہ ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا انڈیا کی سپریم کورٹ نے کشمیر میں گورنر راج نافذ کرنے کی ایک اپیل پر سماعت کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے۔
پینتھر پارٹی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ’ہر چیز کو عدالتی میزان پر نہیں تولنا چاہیے۔‘







