کشمیر میں فوجی قافلے پر حملہ، تین اہلکار ہلاک

گذشتہ روز بھی سرینگر میں عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ روز بھی سرینگر میں عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے

انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں فوج کے قافلے پر شدت پسندوں کے حملے میں دو فوجیوں سمیت تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق اس حملے میں تین سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے منگل کو رات گئے بارہ مولہ کے علاقے كھوجا باغ میں فوج کے قافلے پر حملہ کیا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ ’حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔‘

ان کے مطابق حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل گذشتہ روز انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوام اور <link type="page"><caption> سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/08/160816_kashmir_four_killed_zs" platform="highweb"/></link>۔

سرینگر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق یہ جھڑپیں بڈگام کے علاقے میں ہوئیں اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔

ہلاک ہونے والے افراد پیر کو سری نگر میں ایک مظاہرے کے دوران پولیس سے تصادم میں ایک 16 سالہ لڑکے کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری تشدد میں اب تک 65 افراد ہلاک جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

یہ احتجاجی لہر آٹھ جولائی کو نوجوان علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی فوج سے تصادم میں ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔

منگل کو ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ جھڑپ مرکزی ریزرو پولیس فورس کے ایک دستے اور مظاہرین کے درمیان ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق یہ دستہ سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کے انتخابی علاقے بیرواہ سے گزر رہا تھا کہ وہاں احتجاج کرنے والے افراد نے ان اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔