کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ سے چار افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں مزید چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
سرینگر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق یہ جھڑپیں بڈگام کے علاقے میں ہوئیں اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔
ہلاک ہونے والے افراد پیر کو سری نگر میں ایک مظاہرے کے دوران پولیس سے تصادم میں ایک 16 سالہ لڑکے کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری تشدد میں اب تک 65 افراد ہلاک جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ احتجاجی لہر آٹھ جولائی کو نوجوان علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی فوج سے تصادم میں ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔
منگل کو ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ جھڑپ مرکزی ریزرو پولیس فورس کے ایک دستے اور مظاہرین کے درمیان ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق یہ دستہ سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کے انتخابی علاقے بیرواہ سے گزر رہا تھا کہ وہاں احتجاج کرنے والے افراد نے ان اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔
پتھراؤ کے جواب میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر گولی چلائی گئی جس سے چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔
تازہ ہلاکتوں کے بعد وادی میں سری نگر اور دیگر اہم علاقوں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ کرفیو بھی بدستور نافذ ہے۔
ادھر انڈیا کے وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ منگل کو کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کے لیے قومی سلامتی کے مشیر سے ملاقات کر رہے ہیں۔







