’کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ نہیں ہے‘

کشمیر انسانی حقوق کی شدید پامالی کا بین الاقوامی مسئلہ ہے

،تصویر کا ذریعہOIC

،تصویر کا کیپشنکشمیر انسانی حقوق کی شدید پامالی کا بین الاقوامی مسئلہ ہے

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ایاد امین مدنی نے کہا ہے کہ کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہtwitter

سنیچر کو پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ او آئی سی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ’کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی شدید پامالیوں کا بین الاقوامی مسئلہ ہے۔‘

ایاد امین مدنی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کشمیری عوام کی حقِ خود ارادیت میں ان کی مکمل حمایت کرنے کا اعلان بھی کیا اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا۔

ان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیزنے ایک بیان بھی جاری کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty

سرتاج عزیز کے مطابق او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سے بات چیت کے دوران علاقائی صورتحال اور خصوصاً انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال پر بات کی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ رواں برس ستمبر میں او آئی سی کا کشمیر سے متعلق گروپ، نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران دوبارہ ملاقات بھی کرے گا۔

خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کو 40 دن گذر چکے ہیں اور تشدد کے واقعات میں 60 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

کشمیر میں انڈین فوج کی جانب سے مظاہرین کو چھروں کے ذریعے بھی نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے متعدد افراد بینائی سے محروم ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAarabu Ahmad Sultan

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں انڈین فوج کی جانب سے مظاہرین کو چھروں کے ذریعے بھی نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے متعدد افراد بینائی سے محروم ہو چکے ہیں

گدشتہ روز ہی پاکستانی وزیراعظم کے خط کے جواب میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ مزید تشدد کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور<link type="page"><caption> امریکہ کی جانب سے پاکستان اور بھارت </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160817_pak_india_america_sh" platform="highweb"/></link>سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ وسیع تعاون اور انسداد دہشت گردی سے متعلق مذاکرات کریں۔

پاکستان نے 15 اگست کو انڈیا کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر انڈین سیکریٹری خارجہ کو <link type="page"><caption> جموں و کشمیر کے مسئلے پر باقاعدہ بات چیت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160817_india_response_pak_invitation_zz" platform="highweb"/></link> دی تھی۔

تاہم بھارت نے یہ دعوت اس شرط پر قبول کی تھی کہ خارجہ سیکریٹریوں کی بات چیت کا محور دہشت گردی ہی ہوگا۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’چونکہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے کلیدی پہلوؤں کا تعلق سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی سے ہے اس لیے ہم نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ خارجہ سیکریٹریوں کی بات چیت میں انہیں پر توجہ مرکوز کی جائے۔‘