انڈیا بات چیت پر راضی لیکن ’موضوع دہشتگردی ہونا چاہیے‘

پاکستان اور انڈیا کے سیکریٹری خارجہ نے اپریل میں نئی دہلی میں بھی ملاقات کی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور انڈیا کے سیکریٹری خارجہ نے اپریل میں نئی دہلی میں بھی ملاقات کی تھی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی جانب سے انڈیا کو کشمیرکے مسئلے پر مذاکرات کی دعوت کے جواب میں پاکستان نےکہا ہے کہ ’انڈیا نے مشروط آمادگی‘ ظاہر کی ہے جبکہ انڈیا کا اصرار ہے کہ مذاکرات کا محور ’سرحد پار دہشتگردی‘ ہونا چاہیے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے اپنے جوابی خط میں مذاکرات شروع کرنے پر ’آمادگی‘ ظاہر کی ہے۔ تاہم وہ مذاکرات اپنے ایجنڈے پر کرنا چاہتا ہے جس میں سب سے بڑا مسئلہ شدت پسندی سے نمٹنا ہے۔

ادھر ذرائع کے مطابق انڈیا کی حکومت نے جموں و کشمیر پر بات چیت کے لیے پاکستان کی پیش کش کے جواب میں کہا ہے کہ ’چونکہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے کلیدی پہلوؤں کا تعلق سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی سے ہے اس لیے ہم نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ خارجہ سیکریٹریوں کی بات چیت میں انہیں پر توجہ مرکوز کی جائے۔‘

بدھ کو حکومت پاکستان کو دیے جانے والے خط میں’حکومت نے جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں(پاکستان کے) الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جموں و کشمیر انڈیا کا اٹوٹ حصہ ہے اور پاکستان کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

پاکستان نے حال ہی میں انڈین سیکریٹری خارجہ کو جموں و کشمیر کے مسئلے پر باقاعدہ بات چیت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔

اس کے جواب میں انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے سنیچر کو مذاکرات کی پاکستانی دعوت کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اس کے ساتھ شرائط بھی رکھی تھیں اور کہا تھا کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پاکستان ’سرحد کے پار سے ہونے والی اشتعال انگیزی اور دہشت گردی کو روکے، حافظ سعید اور سید صلاح الدین جیسے بین الااقوامی طور پر تسلیم شدہ دہشت گردوں کی حمایت کرنا بند کرے اور ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کی تحقیقات کرے۔‘

ادھر امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان وسیع تعاون اور انسداد دہشت گردی سے متعلق مذاکرات کریں۔

کشمیر میں تشدد کی حالیہ لہر پر دونوں ممالک میں تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں تشدد کی حالیہ لہر پر دونوں ممالک میں تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں

اس سے پہلے پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ اُمور سرتاج عزیز نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’پاکستان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے لیکن انڈیا اس اہم مسئلے کو نظر انداز کر کے اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔‘

واضح رہے کہ حالیہ چند دنوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پیر کے روز انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر کی جانے والی اپنی تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت کے عوام نے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

جس کے جواب میں پاکستان نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستانی صوبے بلوچستان کے بارے میں بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ انڈیا بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔