’انڈیا، پاکستان انسدادِ دہشت گردی سے متعلق مذاکرات کریں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کے محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان وسیع تعاون اور انسداد دہشت گردی سے متعلق مذاکرات کریں۔
منگل کو واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران محکمۂ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان بہتر تعلقات دونوں ملکوں اور خطے کے مفاد میں ہیں۔
٭<link type="page"><caption> کشمیر کی بساط پر بلوچستان کی شاہی چال</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/08/160816_kashmir_balochistan_modi_analysis_mb" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> انڈیا کو کشمیر پر مذاکرات کی باضابطہ دعوت</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160815_pak_invite_india_kashmir_talks_hk" platform="highweb"/></link>
مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ’ہم انڈیا اور پاکستان کے درمیان وسیع پیمانے پر مذاکرات اور انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ پاکستان نہ صرف اندرون ملک میں بلکہ خطے میں کہیں بھی دہشت گردوں کی کارروائیوں کو روکے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعطل کے شکار مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وسیع تر تعاون اور وسیع تر مذاکرات نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور امریکہ اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ اُمور سرتاج عزیز نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’پاکستان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مسلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے لیکن انڈیا اس اہم مسلے کو نظر انداز کر کے اپنی ذمہ داری سے پیھچے ہٹ رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ حالیہ چند دنوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پیر کے روز انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر کی جانے والی اپنی تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت کے عوام نے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
جس کے جواب میں پاکستان نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستانی صوبے بلوچستان کے بارے میں بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ انڈیا بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔
تاہم اس سے قبل پاکستان نے انڈین سیکریٹری خارجہ کو جموں و کشمیر کے مسئلے پر باقاعدہ بات چیت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ انڈین سیکریٹری خارجہ کے نام تحریرہ کردہ خط میں پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے اپنے انڈین ہم منصب کو جموں و کشمیر کے تنازع پر مذاکرات کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں خرابی کی بنیادی وجہ کشمیر کا مسئلہ ہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خط میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں پر یہ عالمی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کریں۔
پاکستان کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں ان شرائط کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا جن کا اعلان انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے سنیچر کو کیا تھا۔
وکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ انڈیا پاکستان کے ساتھ تمام حل طلب مسائل پر بات کرنا چاہتا ہے اور اُسے مذاکرات کی دعوت دی گئی تو وہ اس کا خیر مقدم کرے گا۔
تاہم انھوں نے اس سلسلے میں چند شرائط بھی رکھی تھیں اور کہا تھا کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پاکستان ’سرحد کے پار سے ہونے والی اشتعال انگیزی اور دہشت گردی کو روکے، حافظ سعید اور سید صلاح الدین جیسے بین الااقوامی طور پر تسلیم شدہ دہشت گردوں کی حمایت کرنا بند کرے اور ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کی تحقیقات کرے۔‘







