انڈیا: ’ایمنسٹی کے خلاف بغاوت کے شواہد نہیں ملے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف بنگلور میں ہونے والے ایک پروگرام کر دوران کچھ لوگوں کی طرف سے انڈیا مخالف نعروں کے سلسلے میں بغاوت کا مقدمہ قائم کرنے کے لیے شواہد نہیں ہیں۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد کشمیر میں ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے سلسلے میں انصاف حاصل کرنا‘ تھا۔
تاہم دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک طلبا تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ایک انڈیا مخالف پروگرام تھا اور اسی بنیاد پر اس نے ایک شکایت درج کرائی تھی۔
فروری میں دارالحکومت دِلی میں دو طلباء کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق جب بنگلور میں ہونے والے پروگرام میں شریک ایک شخص نے انڈین فوج کی تعریف کی تو وہاں موجود کچھ کشمیر طلبا نے انڈیا مخالف نعرے لگانا شروع کر دیے۔
پولیس کا کہنا ہے اس نے 13 اگست کو ہونے والے پروگرام کی ایڈٹ ہونے سے پہلے والی وڈیو فٹیج کا معائنہ کیا ہے جس میں کچھ شرکا نے مبینہ طور پر نعرے لگائے۔
سینیئر پولیس اہلکار چرن ریڈی نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ اس وقت تک ہونے والی تفتیش کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف بغاوت کا کوئی کیس نہیں بنتا۔
’ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس الزام ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود نہیں ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسٹر ریڈی نے کہا کہ وہاں پر انڈیا سے آزادی کے بارے میں کچھ نعرے بازی ہوئی تھی اور ہم نے کچھ اشخاص کو شناخت کر لیا ہے۔
’ہم ان اشخاص سے پوچھ گچھ کریں گے۔ ہمیں ماہرین کی طرف سے اجلاس کا کارروائی کا ترجمہ ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے۔‘
یاد رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ ہفتوں میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک اور پانچ ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔







