انڈین کشمیر میں 52 روزہ کرفیو ختم

پلوامہ ضلع کے اکثر قصبوں اور پرانے سری نگر کے دو پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو اب بھی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپلوامہ ضلع کے اکثر قصبوں اور پرانے سری نگر کے دو پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو اب بھی جاری ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

انڈیا کے زیرانتطام کشمیر کی مقامی انتظامیہ نے اتوار کی شام کو سلامتی سے متعلق ایک اجلاس کے بعد وادی کشمیر کے بیشتر اضلاع سے کرفیو ہٹانے کا اعلان کیا۔

پیر کی صبح سات ہفتوں کے بعد لوگوں نے سکون کا سانس لیا ہے تاہم پلوامہ ضلع کے اکثر قصبوں اور پرانے سری نگر کے دو پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو اب بھی جاری ہے۔

ہنگامی ضرورتوں کے لیے لوگ پیر کی صبح گھروں سے نکلے، تاہم علیحدگی پسندوں کی کال پر تجارتی سرگرمیاں اب بھی معطل ہیں۔

برہان کی موت کے بعد لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں نکل پڑے جس کے دوران کئی مقامات پر فورسز نے لوگوں پر فائرنگ کی جس میں اب تک 70 افراد ہلاک ہوچکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبرہان کی موت کے بعد لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں نکل پڑے جس کے دوران کئی مقامات پر فورسز نے لوگوں پر فائرنگ کی جس میں اب تک 70 افراد ہلاک ہوچکے ہیں

پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’حالات میں مسلسل بہتری ہو رہی ہے۔ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب کرفیو کی ضرورت نہیں رہی۔‘

واضح رہے کہ آٹھ جولائی کو جنوبی کشمیر کے کوکر ناگ علاقے میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی کو ان کے دو ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا تو پوری وادی میں احتجاج کی لہر پھیل گئی۔

برہان کی موت کے بعد لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں شامل ہونے کے لیے نکل پڑے جس کے دوران کئی مقامات پر فورسز نے لوگوں پر فائرنگ کی۔ پہلے تین روز میں 30 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ کل ملا کر اب تک 70 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ چھرّوں، گولیوں اور آنسوگیس کے گولوں سے چھ ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ چھرّوں، گولیوں اور آنسوگیس کے گولوں سے چھ ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں

ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ چھرّوں، گولیوں اور آنسوگیس کے گولوں سے چھ ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پرتشدد پتھراؤ کے دوران فورسز کے چار ہزار اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس دران دو پولیس اہلکار مارے بھی گئے۔

دریں اثنا حکومت نے علیحدگی پسند رہنماوں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کو مسلسل قید رکھا ہے۔ گیلانی تو گھر میں مسلسل نظربند ہیں جبکہ یاسین ملک کو جیل میں قید کیا گیا ہے۔

گذشتہ روز پولیس نے میرواعظ عمرفاروق کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ انھیں چشمہ شاہی کی ایک ٹورسٹ ہٹ میں قید کیا گیا ہے، جسے حکومت نے سب جیل قرار دیا ہے۔

26 سالہ مسلح شورش کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ میر واعظ عمرفاروق کو حراست میں لیا گیا ہے۔ عمرفاروق کشمیر کے میرواعظ یعنی بڑے دینی مبلغ ہیں۔ انھیں اور دوسرے رہنماوں کو گذشتہ سات جمعوں سے جامع مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔