افغانستان: ہلمند کے ضلع ناوا میں طالبان کی پسپائی

وزارتِ دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے بتایا کہ ’لشکر گاہ میں سکیورٹی کی صورتحال قابو میں ہے‘
،تصویر کا کیپشنوزارتِ دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے بتایا کہ ’لشکر گاہ میں سکیورٹی کی صورتحال قابو میں ہے‘

افغانستان کی افواج نے شدید لڑائی کے بعد صوبے ہلمند کے مرکزی ضلعے ناوا پر افغان طالبان کے قبضے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ناوا جانے والی مرکزی شاہراہ تاحال بند ہے لیکن افغانستان کی افواج مرکزی شاہراہ کے بجائے جنوبی راستے سے داخل ہوئیں۔

طالبان کے شدت پسندوں اور حکومتی افواج کے درمیان ہونے والی لڑائی میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

ہلمند صوبے کے گورنر کا کہنا ہے کہ وہ اس آپریشن میں ذاتی طور پر شامل رہے ہیں۔

ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمر زواک نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ رات سے اب تک ناوا اور ناد علی ضلعوں میں ہونے والی لڑائی میں طالبان کے 80 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلمند کے صوبائی کونسل کے سربراہ کے مطابق اس آپریشن کے بعد طالبان کو صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ سے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے بتایا کہ ’لشکر گاہ میں سکیورٹی کی صورتحال قابو میں ہے۔‘

ترجمان دولت وزیری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے ناوا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ مضافاتی علاقوں میں لڑائی جاری ہے لیکن کلیئرنس آپریشن میں ہمیں کامیابی ہو رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس لڑائی میں درجنوں طالبان زخمی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ چند دونوں کے دوران ہلمند حکومتی افواج اور طالبان کے درمیان میدانِ جنگ بنا ہوا ہے اور دارالحکومت لشکر گاہ سے ہزاروں افراد نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شہر میں پانی اور خوراک کی قلت ہے۔

ہلمند کا شمار افغانستان کے اُن صوبوں میں ہوتا ہے جہاں امریکہ اور اتحادی افواج کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

افغانستان سے امریکہ افواج کے انخلا کے بعد بھی امریکہ نے حالیہ مہینوں کے دوران ہلمند اور قندوز میں سینکڑوں فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔