افغان فورسز کو سنگین پر قبضہ قائم رکھنےمیں مشکلات

وزارت دفاع کے مطابق برطانوی فوجیوں کی ایک مختصر سی ٹکڑی کو ہلمند صوبے کے لیے روانہ کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہMOD

،تصویر کا کیپشنوزارت دفاع کے مطابق برطانوی فوجیوں کی ایک مختصر سی ٹکڑی کو ہلمند صوبے کے لیے روانہ کیا گیا ہے

افغانستان میں حکام کے مطابق صوبہ ہلمند کے قصبے سنگین میں طالبان جنگجؤں کے محاصرے کے بعد افغان فورسز کو پولیس ہیڈکوارٹر پر اپنا قبضہ قائم رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

تاہم پورے ضلعے پر قبضے کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ برطانیہ کے ایک فوجی دستے کو افغانستان کے ہلمند صوبے میں تعینات کیا گیا ہے جبکہ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے جنوبی صوبے ہلمند کے قصبے سنگین پر قبضہ کر لیا ہے۔

صوبہ ہلمند کے گورنر اور پولیس نے طالبان کی جانب سے قصبے پر قبضہ کرنے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ان اطلاعات کو ’بالکل غلط‘ قرار دیا ہے۔

برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایک چھوٹے دستے کو ’مشاورتی کردار‘ میں ہلمند میں کیمپ شورابیک کے لیے روانہ کیا گيا ہے۔

وزارت دفاع نے کیا ہے کہ یہ دستہ وسیع نیٹو ٹیم کا حصہ ہیں لیکن یہ لڑائی میں شرکت نہیں کرے گی۔

وزارت دفاع کی ایک ترجمان نے کہا: ’یہ تعیناتی نیٹو کے ریزولیوٹ سپورٹ مشن میں برطانوی تعاون کے طور پر کی جا رہی ہے۔

’یہ فوجی وسیع نیٹو ٹیم کا حصہ ہیں جو افغان نیشنل آرمی کو صلاح و مشورے دے رہی ہیں۔ انھیں جنگ کرنے کے لیے تعینات نہیں کیا گیا اور یہ کیمپ کے باہر تعینات نہیں رہیں گے۔‘

خیال رہے کہ برطانیہ نے گذشتہ سال افغانستان میں اپنا جنگی آپریشن ختم کر دیا تھا تاہم اس کے ساڑھے چار سو فوجی مانیٹرنگ اور سپورٹنگ کردار میں وہاں رہ گئے ہیں۔

دوسری جانب طالبان نے کہا ہے کہ شدید لڑائی کے بعد سنگین قصبے کے مرکز پر اب ان کا قبضہ ہے۔

جبکہ ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سنگین کا پولیس ہیڈکوارٹر ابھی بھی جنگجوؤں کے حصار میں ہے اور وہاں موجود فوجیوں کو کابل حکومت سے کوئی مدد نہیں مل پا رہی۔

گذشتہ رات مشتبہ طالبان جنگجوؤں نے کابل کے مرکز میں تین راکٹ داغے۔ اس سے قبل طالبان نے کہا ہے کہ انھوں نے کابل کے باہر بگرام کے فوجی ہوائی اڈے پر حملہ کیا ہے جس میں ایک خودکش بمبار نے چھ امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ حملے کے باوجود افغان حکومت اور وہاں کے لوگوں کے لیے پابند عہد ہے۔

خیال رہے کہ یہ حالیہ مہینوں کے دوران ہونے والے شدید ترین حملوں میں سے ایک ہے۔

دوسری جانب ہلمند کے گورنر مرزا خان کا کہنا ہے کہ سنگین کا کنٹرول حکام کے پاس ہی ہے تاہم ان کے ایک نائب کے مطابق طالبان کا سنگین پر محاصرہ جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

بگرام کے اس فوجی اڈے میں نیٹو کی زیرِ قیادت بین الاقوامی اتحاد کے کم از کم 12,000 غیر ملکی فوجی تعینات ہیں۔

ہلمند کے گورنر مرزا خان کے نائب محمد جان رسول یار نے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو بتایا کہ طالبان نے اتوار کی رات گئے سنگین ضلع پر حملہ کیا۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا ’طالبان نے سنگین میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹر، گورنر کے دفتر کے علاوہ انٹیلیجنس کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ ضلعے میں لڑائی جاری ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے پی نے محمد جان رسول یار کے حوالے سے بتایا کہ سنگین میں جاری لڑائی میں افغان سکیورٹی افواج کو بہت نقصان پہنچا تاہم انھوں نے ان کی تعداد نہیں بتائی۔

دوسری جانب کابل میں حکومت کا کہنا ہے کہ سنگین میں مزید کمک بھیجی جا رہی ہے۔

افغانسان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان دولت وزیر نے کہا ہے کہ طالبان کے جنگجوؤں میں پاکستان، ازبک، عرب، چین کے اوغر اور چیچن شامل ہیں۔

صوبے ہلمند کے پولیس کمانڈر محمد داؤد نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان نے سنگین کو بقیہ صوبے سے مکمل طور پر کاٹ دیا تھا جس کی وجہ سے وہاں خوراک اور اسلحے کی فراہمی متاثر ہو رہی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم گذشتہ دو دنوں کے دوران پولیس ہیڈ کوارٹر میں گھرے ہوئے ہیں۔

محمد داؤد نے کہا کہ وہاں سے کوئی بھی باہر نہیں نکل سکتا تھا کیونکہ وہاں تمام راستے بند تھے۔

اس سے قبل ہلمند صوبے کے نائب گورنر محمد جان رسول یار نے فیس بک کے ذریعے ملک کے صدر اشرف غنی سے صوبہ ہلمند میں طالبان کے ساتھ جاری لڑائی میں مدد مانگی تھی۔

سماجی رابطوں کی سائٹ فیس بک پر محمد جان رسول یار نے صدر غنی کو اپنے پیغام میں لکھا کہ گذشتہ دو دنوں سے ہلمند میں ہونے والی لڑائی میں 90 فوجی مارے جا چکے ہیں۔

دریں اثنا ہلمند سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طالبان کا کہنا ہے وہ ہلمند کے قریب ایک اور ضلعے پر قبضہ کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی نے صوبے ہلمند کے صوبائی کونسل کے سربراہ محمد کریم کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلمند کا 65 فیصد علاقہ اب طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں طالبان جنگجوؤں نے ملک کے کئی علاقوں میں افغان فوج کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جس کے باعث سکیورٹی فورسرز دباؤ کا شکار ہیں۔