پاکستانی وزیرِاعظم کے خلاف انڈیا میں درخواست دائر

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا کے شہر انبالہ میں عدالت نے پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں کے خلاف اینٹی ٹیررسٹ فرنٹ انڈیا نامی تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔
اس تنظیم کے صدر ويریش شانڈليہ نے منگل کو انبالہ کی سی جی ایم کورٹ میں نواز شریف اور کشمیری رہنماؤں کے خلاف ملک سے غداری کی دفعات کے تحت درخواست دائر کی۔
اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے حزب المجاہدین کے شدت پسند برہان وانی کو شہید قرار دینا اور پاکستان میں اس سلسلے میں یومِ سیاہ منانا انڈیا کے خلاف کھلی جنگ ہے۔‘
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی وزیرِ اعظم کے اشارے پر علیحدگی پسند لیڈر یٰسین ملک، مير واعظ عمر فاروق، شبیر شاہ اور سید علی گیلانی کشمیر میں پاکستان کے پرچم لہرا رہے ہیں اور برہان وانی جیسے شدت پسندوں کا یوم شہادت منا كر کشمیریوں کو انڈیا کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔‘
عدالت نے یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے اور اس معاملے پر دوبارہ سماعت 25 جولائی کو ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ويریش شانڈليہ نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کشمیر میں حریت لیڈر جہاں عام لوگوں کو اکسا رہے ہیں اور انڈین سکیورٹی فورسز پر حملے کروا رہے ہیں وہیں امرناتھ یاترا میں بھی رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’ہم ان تمام عناصر اور ان کے خطرناک ارادوں کو سب کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔‘
نواز شریف کے پاکستانی شہری ہونے کی وجہ سے مقدمہ کمزور ہونے سے متعلق سوال پر ويریش نے کہا کہ ’کشمیری علیحدگی پسند رہنما تو انڈیا میں ہی رہتے ہیں اور یہ تمام پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے ملے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال میں ان سب کو انھوں نے معاملے میں فریق بنایا ہے اور وہ اس معاملے کو آگے تک لے کر جائیں گے۔‘
خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے شروع ہونے والے احتجاج میں اب تک 42 افراد مارے جا چکے ہیں۔
ان پرتشدد واقعات کی جہاں عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے وہیں پاکستان میں اس سلسلے میں کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بدھ کو سرکاری سطح پہ یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے۔







