’کشمیریوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تمہیں کیا چاہیے‘

جنرل حسنین سرینگر میں مقیم فوج کی پندرہویں کور کے کمانڈر رہ چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنجنرل حسنین سرینگر میں مقیم فوج کی پندرہویں کور کے کمانڈر رہ چکے ہیں
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

کشمیر میں مظاہروں اور تشدد کی تازہ لہر کے بعد انڈیا میں زیادہ تر مبصرین اور تجزیہ نگار بات چیت کی وکالت کر رہے ہیں، پاکستان سے نہیں کشمیر کے عوام سے۔

اور کچھ کا مشورہ ہے کہ حکومت انا کوچھوڑ کر ان لوگوں کو اینگیج کرے جن کے غصے اور مایوسی نے انھیں سڑکوں پر پہنچا دیا ہے۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین کا کہنا ہے کہ ’ کشمیر میں حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ جس کسی نے بھی کشمیر میں کام کیا ہے اور وہاں کی شورش کو قریب سے دیکھا ہے، وہ آپ کو بتائے گا کہ وہاں سب سے بڑا مسئلہ وہ خلیج ہے جو حکومت، سیاستدانوں اور عوام کے درمیان پیدا ہوگئی ہے۔۔۔ اور یہ کمی صرف انتخابات سے پوری نہیں ہوسکتی۔‘

جنرل حسنین سرینگر میں مقیم فوج کی پندرہویں کور کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔

سیاسی امور کے ماہر دیپانکر گپتا کا کہنا ہے کہ شمالی آئرلینڈ اور سپین کے باسک علاقے میں سرگرم باغیوں، اور فلسطین اور کشمیر میں سرگرم علیحدگی پسندوں میں ایک یکسانیت ہے: وہ ٹوٹے ہوئے کانچ پر چلنا پسند کریں گے لیکن تحریک سے دستبردار نہیں ہوں گے۔۔۔ ایسا تب ہوتا ہے جب مزاحمت کلچر کا حصہ بن جائے اور افسوس کہ یہ ہی کشمیر میں ہوا ہے۔‘

دیپانکر گپتا نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ مسئلے کا حل یہ ہے کہ کناڈا کے علاقے کیوبیک، باسک اور شمالی آئر لینڈ سے سبق سیکھا جانا چاہیے۔ چند سال پہلے تک وہاں مسلح تحریکیں جاری تھیں، لیکن ان تحریکوں کے رہنما آج مقامی حکومتوں میں شامل ہیں کیونکہ سپین اور برطانیہ کی حکومتوں نے انہیں دوبارہ قومی دھارے میں لانے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے اور اس کے لیے انہیں غیر معمولی رعایتیں دینا پڑیں، ایسے اقدامات جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

کشمیر میں تشدد کی تازہ لہر حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں تشدد کی تازہ لہر حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم کناڈا، سپین یا برطانیہ کی نقل تو نہیں کر سکتے، لیکن ان سے تحریک لےکر اپنے ذہن ضرور کشادہ کر سکتے ہیں۔‘

سینیئر صحافی کرن تھاپر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ’ہندوستان ایک آزاد جمہوری ملک ہے جہاں لوگ گجراتی، راجستھانی، تمل یا ملیالی۔۔۔ ہوسکتے ہیں لیک ساتھ ہی وہ ہندوستانی بھی ہیں، لیکن کشمیری ایسا محسوس نہیں کرتے۔‘

ان کے مطابق اگر اس صورتحال کو بدلنا ہے ’تو ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ وہ چاہتے کیا ہیں، ہم ان کے مطالبات کس حد تک پورا کرسکتے ہیں اور کیا ہمارے درمیان کوئی سمجھوتہ ممکن ہے؟‘

کرن تھاپر کا کہنا ہے کہ ایک حقیقی جمہوریت مسائل کا سامنا کرتی ہے انہیں حل کرنے کی ذمہ داری پولیس پر نہیں چھوڑ دیتی۔ ’بدقسمتی سے ہم نے ایسا ہی کیا ہے۔‘

وہ بھی شمالی آئرلینڈ کی مثال دیتے ہیں جہاں ان کے مطابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان سے پہلے جان میجر نے فوجی حل کے بجائے سیاسی حل کو ترجیح دی اور انجام کار نتیجہ یہ ہوا کہ ’مسلح تحریک چلانےوالی آئرش رپبلکن آرمی کا سیاسی چہرہ شن فین آج حکومت میں شامل ہے۔‘

کرن تھاپر کا کہنا ہے کہ ایک حقیقی جمہوریت مسائل کا سامنا کرتی ہے انہیں حل کرنے کی ذمہ داری پولیس پر نہیں چھوڑ دیتی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکرن تھاپر کا کہنا ہے کہ ایک حقیقی جمہوریت مسائل کا سامنا کرتی ہے انہیں حل کرنے کی ذمہ داری پولیس پر نہیں چھوڑ دیتی

ان کا مشورہ ہے کہ حالات کو سنبھالنے کے لیے ابھی بھی وقت ہے، لیکن ’یہ کام آسان نہیں ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس ایسی سیاسی قیادت ہے جو اس کام کو انجام دے سکے؟‘

این ڈی ٹی وی کی سینیئر ایڈیٹر برکھا دت نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ وادی کی پیچیدہ صورتحال کو اگر بہتر بنانا ہے تو سچائی اور مصالحت کی ضرورت ہے، ’پرائم ٹائم اینکرز کی طرف سے حالات کو بھڑکانے کی نہیں۔۔۔ ضرورت قیام امن کے عمل کی ہے لیکن اس سب سے زیادہ اس ہمدردی کی جس کا مظاہرہ اٹل بہاری واجپئی نے کشمیری عوام سے یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ ’انسانیت کے دائرے میں جو کچھ بھی ممکن ہے، وہ کرنے کو تیار ہیں۔‘

مصنفہ شوبھا ڈے نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ کشمیریوں سے کوئی یہ پوچھنے کو تیار نہیں کہ ’تمہیں کیا چاہیے؟ دونوں برسر پیکار فریق بے رحمی کے ساتھ اپنی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں، اس بات کی کسی کو فکر نہیں کہ ان کے تشدد کا نشانہ بننے والے لوگ کیا چاہتے ہیں؟ اب یہ معلوم کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘

کشمیر میں تشدد کی تازہ لہر حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی اور تشدد کے واقعات میں اب تک تقریباً 40 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ انھیں اس بات پر کوئی حیرت نہیں کہ کشمیر پھر ابال پر ہے، ’حیرت اس بات پر ہے وزیر اعلی مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد حالات کو اس نہج پر پہنچنے میں اتنے مہینے لگ گئے۔‘

ان کا موقف ہے کہ حکومتوں نے ایک بنیادی غلطی کی ہے اور وہ یہ کہ کشمیر کے مسئلے کو انھوں نے زمین کے ٹکڑے سے منسوب کیا ہے، کشمیریوں سے نہیں۔