کشمیر میں اخبارات کی اشاعت پر پابندی ختم
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے اخبارات کی اشاعت پر عائد پابندی کو اٹھا لیا ہے۔
تاہم کشمیر کے بعض علاقوں میں اب بھی کرفیو نافذ ہے اور موبائل فون اور انٹرنیٹ تک رسائی بدستور معطل ہے۔
بھارت میں ایک مقامی عسکریت پسند برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں شروع ہونے والے ہنگاموں کے بعد حکومت نے اخبارات کی اشاعت کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہepa
حکومت کی جانب سے اخبارات کی اشاعت پر پابندی کے خاتمے کرنے کے اعلان کے باوجود اخبارات کے مدیران نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے آزادی صحافت کی تحریری ضمانت دیے جانے تک اخبارات کی اشاعت شروع نہیں ہو گی۔
مقامی کشمیری عسکریت پسند برہان وانی کی نو جولائی کو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد کشمیر میں ہونے والے احتجاج میں 40 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دس روز سے جاری ہنگاموں میں 2000 کے قریب عام کشمیری شہری اور 1600 سکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
گذشتہ ہفتے کشمیری حکومت نے اخبارات کو چند روز کے لیے اپنی اشاعت روکنے کا حکم دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ
حکومت نے کہا تھا کہ غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کےل یے اخبارات کی اشاعت پر عارضی پابندی ضروری ہے۔
کشمیر کی حکومت کے سیاسی مشیر امیتابھ مٹو نے کہا تھا کہ اخبارات پر پابندی کا فیصلہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو بتائے بغیر نافذ کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امیتابھ مٹو نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض اوقات مقامی سطح ہونے والے فیصلوں کی اعلیٰ سطح پر منظوری نہیں ہوتی۔
لیکن کشمیری اخبارات کے مدیران میں سے ایک مسعود حسین نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ جب تک حکومت ایک بیان کےذریعے اخبارت پر پابندی کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی اور آئندہ اخبارات کی اشاعت کو یقینی بنانے کی تحریری ضمانت نہیں دیتی اس وقت تک اخبارات کی اشاعت شروع نہیں کی جائےگی۔







