پرینکا ڈوبتی کانگریس کو بچا سکیں گی؟

نہرو گاندھی خاندان کے قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ اگر اندرا گاندھی کا رعب ان کے خاندان میں کسی کو وراثت میں ملا ہے تو وہ پرینکا گاندھی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننہرو گاندھی خاندان کے قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ اگر اندرا گاندھی کا رعب ان کے خاندان میں کسی کو وراثت میں ملا ہے تو وہ پرینکا گاندھی ہیں
    • مصنف, نتن سری واستو
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

یہ بات سنہ 2012 کے اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران کی ہے جب کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی اپنی گاڑی سے رائے بریلی میں ایک حلقے کا دورہ کر رہی تھیں۔

ایک گاؤں میں ان کے استقبال کے لیے ایک بڑے مقامی لیڈر اور سابق رکن اسمبلی کھڑے نظر آئے۔

پرینکا کے چہرے کے تاثرات بدل گئے، انھوں نے اپنی گاڑی میں سوار لوگوں کو اترنے کے لیے کہا اور اشارے سے اس ’قدآور‘ مقامی لیڈر کو گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔

اپنی اگلی نشست سے پیچھے مڑ کر غصے میں پر پرینکا نے اس لیڈر کو 10 منٹ تک ڈانٹا اور کہا: ’پھر مجھے ایسا کچھ سنائی نہ دے میں سب جانتی ہوں۔ اب گاڑی سے مسکراتے ہوئے اترو۔‘

پرینکا گاندھی نے ایک بار خود کہا تھا کہ وہ اندرا گاندھی جیسی ہیں اور میری ناک ان سے ملتی ہے

،تصویر کا ذریعہVINAY DWIVEDI

،تصویر کا کیپشنپرینکا گاندھی نے ایک بار خود کہا تھا کہ وہ اندرا گاندھی جیسی ہیں اور میری ناک ان سے ملتی ہے

کھانے کا وقت ہو چکا تھا اور پرینکا نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے پراٹھے، آلو کی بھجيا اور آم کا اچار کھایا۔ واپس رائے بریلی کے اپنے ٹھکانے پہنچ کر كانگریسی کارکنان سے میٹنگ شروع کر دی۔

درمیان میں ہی میٹنگ روک کر ایک مقامی رہنما کو پرینکا بلا کر کمرے میں لے گئیں اور پانچ منٹ بعد وہ کمرے سے نکلے تو ان کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔

چند ماہ بعد پرینکا گاندھی نے ٹکٹ تقسیم کرنے کے اجلاس کے دوران اس رہنما سے رائے بھی لی۔

نہرو گاندھی خاندان کے قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ اگر اندرا گاندھی کا رعب ان کے خاندان میں کسی کو وراثت میں ملا ہے تو وہ پرینکا گاندھی ہیں۔

ریاست اترپردیش میں انتخابات سے قبل ایک بار پھر سے کانگرس پارٹی میں ایک گروپ کی جانب سے ’پرینکا لاؤ‘ کا مطالبہ شروع ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنریاست اترپردیش میں انتخابات سے قبل ایک بار پھر سے کانگرس پارٹی میں ایک گروپ کی جانب سے ’پرینکا لاؤ‘ کا مطالبہ شروع ہوا ہے

رائے بریلی اور امیٹھی میں پرینکا اپنے دوروں کے دوران کبھی کبھی اندرا گاندھی کی ساڑھی بھی پہن کر نکل جاتیں ہیں۔

کئی برس قبل ایک سینئر صحافی نے ان سے پوچھا: ’آپ میں اور اندرا جی میں بہت مماثلت ہے۔‘

پرینکا گاندھی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ’جی ہاں میں ان جیسی ہوں۔ میری ناک ان سے ملتی ہے۔‘

ریاست اترپردیش میں انتخابات سے قبل ایک بار پھر سے کانگرس پارٹی میں ایک گروپ کی جانب سے ’پرینکا لاؤ‘ کا مطالبہ شروع ہوا ہے۔

حالانکہ پرینکا گاندھی نے اس طرح کے مطالبات کی طرف بہت کم توجہ دی ہے اور اپنی ماں اور بھائی راہول گاندھی کے لیے کام کرنے کی ہی بات دہرائی ہے۔

کانگرس پارٹی کا ایک بڑا طبقہ مانتا رہا ہے کہ نہرو گاندھی خاندان کی سیاسی وراثت پرینکا میں دوسروں سے زیادہ ہے اور انہیں کانگرس کی کمان سنبھالنی چاہیے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکانگرس پارٹی کا ایک بڑا طبقہ مانتا رہا ہے کہ نہرو گاندھی خاندان کی سیاسی وراثت پرینکا میں دوسروں سے زیادہ ہے اور انہیں کانگرس کی کمان سنبھالنی چاہیے

2004 کے عام انتخابات کے نتائج جب ٹی وی پر آنے شروع ہوئے تھے تو امیٹھی میں ٹی وی پر نتائج دیکھنے والی پرینکا کے چہرے کی مسکراہٹ ہر 10 منٹ میں بڑھ رہی تھی۔

اور پھر اچانک بول اٹھیں: ’ممی ہیز ان اٹ۔۔۔۔۔۔‘

ان کے اسی جذبے کو دیکھ کر کانگرس پارٹی کا ایک بڑا طبقہ مانتا رہا ہے کہ نہرو گاندھی خاندان کی سیاسی وراثت پرینکا میں دوسروں سے زیادہ ہے اور انہیں کانگرس کی کمان سنبھالنی چاہیے۔

گاندھی خاندان کے گڑھ رائے بریلی اور امیٹھی میں پارٹی کے بیشترً حامی دبی زبان میں اس طرف بھی اشارہ کرتے رہے ہیں کہ پرینکا کے بھائی راہول گاندھی کی قیادت میں ریاست میں کچھ خاص تبدیلی نہیں آئی ہے اور کانگریس کے کارکن جواب دہ کم ہوگئے ہیں۔

کانگرس پر خاص نظر رکھنے والے سینیئر صحافی رشید قدوائی کہتے ہیں کہ اس طرح کا مطالبہ پہلی بار نہیں اٹھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

انھوں نے کہا: ’اگرچہ دیکھنے میں تو ایسا لگتا ہے کہ اب پرینکا گاندھی کے لیے پانی سر کے اوپر ہو چکا ہے۔ انھیں سیاست میں آ جانا چاہیے کیونکہ ان میں لوگ امید کی کرن دیکھتے ہیں۔ کانگرس کا ایسا ہی حال 1997 میں ہوا تھا جب بڑے لیڈر پارٹی چھوڑ چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ اس وقت سونیا آگے آئیں تھیں اور سب پر قابو پالیا تھا۔ اگر پرینکا فعال قومی سیاست میں کود پڑتی ہیں تو ویسا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

یو پی میں کانگرس پارٹی کے رکن اسمبلی اکھلیش پرتاپ سنگھ جیسے رہنما بھی پرینکا گاندھی کے حامی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پرینکا سیاست میں سرگرم تو ہمیشہ سے رہی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’جب سے پرینکا اپنی ماں اور بھائی کے انتخابی حلقے دیکھ رہی ہیں تبھی سے وہ سیاست میں سرگرم ہیں۔ وہاں کے لوگ بھی یہی مانتے ہیں کہ وہ بناؤٹی نہیں ہیں اور ان میں اپنائیت ہے۔ رہا سوال سیاسی فیصلے کا تو یہ ان کا اور ان کے خاندان کا ہی فیصلہ ہوگا۔‘

پرینکا گاندھی اپنے شوہر کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپرینکا گاندھی اپنے شوہر کے ساتھ

پرینکا گاندھی نے جن منتخب صحافیوں کو انٹرویو دیے ہیں ان میں امیش رگھوونشی بھی ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ پرینکا کے فعال سیاست میں آنے کے اثرات جبھی واضح ہوں گے جب وہ یہ فیصلہ کریں گی۔

انھوں نے کہا: ’ ان کا کرشمہ ان علاقوں میں تو ہوتا ہے جہاں وہ مہم چلاتی ہیں، خاص طور سے لوک سبھا انتخابات میں لیکن انھیں علاقوں میں گذشتہ ریاستی انتخابات میں ان کا کوئی خاص اثر نہیں دکھا جبکہ خود پرینکا نے اس کے لیے ٹارگٹ مقرر کیے تھے۔‘

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عوامی سطح پر پرینکا گاندھی نے ہمیشہ قومی سیاست میں سرگرم ہونے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔

طور ایک بہن وہ اپنا خون پسینہ اس بات میں صرف کرنے میں لگیں ہوئیں ہیں کہ راہل گاندھی سیاست میں کامیاب ثابت ہوں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنطور ایک بہن وہ اپنا خون پسینہ اس بات میں صرف کرنے میں لگیں ہوئیں ہیں کہ راہل گاندھی سیاست میں کامیاب ثابت ہوں

لیکن صحافی رشید قدوائی کو لگتا ہے کہ پورے معاملے کو ایک انسانی نقطہ نظر سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ راہول گاندھی سب کچھ چھوڑ کر سیاست میں آئے تو اس کے پیچھے بھی سونیا اور پرینکا کا ہی ہاتھ تھا۔

رشید قدوائی کے مطابق پرینکا گاندھی سیاست میں اتریں یا نہ اتریں، یہ بات صاف ہے کہ بطور ایک بہن وہ اپنا خون پسینہ اس بات میں صرف کرنے میں لگیں ہوئیں ہیں کہ راہل گاندھی سیاست میں کامیاب ثابت ہوں۔