’ٹارگٹ کلنگ ختم کرنے کے لیے جو کرنا پڑا کریں گے‘

حزب اختلاف نے الزام لگایا ہے کہ حکومت اس آپریشن کا استعمال سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحزب اختلاف نے الزام لگایا ہے کہ حکومت اس آپریشن کا استعمال سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے کر رہی ہے

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک میں اقلیتوں اور سیکولر شہریوں کی بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔

وزیر اعظم حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ان حملوں کو ختم کرنے کے لیے جو بھی کرنا پڑا کرے گی۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز ہی بنگلہ دیش میں پولیس نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا اور 1500 کے قریب افراد کو گرفتار کیا۔

٭ <link type="page"><caption> بنگلہ دیش میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/06/160610_bangladesh_arrest_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> بنگلہ دیش میں ایک اور ہندو قتل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/06/160610_bangladesh_hindu_worker_killed_zz" platform="highweb"/></link>

حزب اختلاف نے الزام لگایا ہے کہ حکومت اس آپریشن کا استعمال سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے کر رہی ہے۔

سنیچر کو حکمراں جماعت عوامی لیگ کی میٹنگ کے دوران شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ ’اس میں وقت لگ سکتا ہے لیکن خدا نے چاہا تو ہم حملے کرنے والوں پر قابو پا لیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجرم کہاں چھپیں گے؟ ہر ایک قاتل کو قانون کے سامنے پیش کریں گے۔‘

تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشن کے دوران گرفتار کیے جانے والوں میں بہت سے عام مجرم شامل ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے قائد فخرالاسلام عالمگیر کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے کارروائی کے دوران سینکڑوں حزب مخالف کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔‘

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے نام پر بہت سے عام اور معصوم لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران سیکولر بلاگرز، اکیڈیمیوں، ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور مذہبی اقلیتوں کے ارکان سمیت 40 افراد کو بنگلہ دیش میں ہلاک کیا گیا ہے۔

اس سے قبل بنگلہ دیش کےوزیر داخلہ نے ملک میں حالیہ تشدد کے واقعات میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی بات بھی کی تھی جسے اسرائیل کی حکومت کی طرف سے رد کر دیا گیا تھا۔