انڈیا: غیرملکی سیاح کا ریپ، پانچ ملزمان پر جرم ثابت

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں دارالحکومت دہلی کی ایک عدالت نے غیر ملکی سیاح خاتون کے ریپ کے الزام میں پانچ افراد کو مجرم قرار دے دیا ہے۔
ریپ کا یہ واقعہ سنہ 2014 میں پیش آیا تھا اور ان ملزمان کو رواں ہفتے سزا سنائی جائے گی۔
ڈنمارک سے تعلق رکھنی والی 51 سالہ خاتون کو چاقو دکھا کر لوٹا گیا اور پھر ریپ کیا گیا۔ پولیس نے اس جرم میں تین نابالغ افراد سمیت نو افراد کو حراست میں لیا تھا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ہی ایک کم عمر ملزم ہلاک ہو گیا تھا۔جرم میں شریک کم عمر افراد پر مقدمہ بچوں کی عدالت میں چلایا گیا۔
انڈیا میں سنہ 2012 میں ایک بس میں طالبہ سے جنسی زیادتی کے بعد ملک میں جنسی تشدد کے واقعات کی چھان بین میں تیزی آئی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا نے ایڈیشنل سیشن جج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ملزموں کو تمام جرائم میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔‘
سوموار کو ملزمان کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ فرد جرم عائد ہونے کے بعد انھیں جمعرات کو سزا سنائی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریپ کا یہ واقعہ دہلی کا قلب تصور کیے جانے والے علاقے کناٹ پلیس میں منگل کی شام پیش آیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ڈنمارک کی 51 سالہ سیاح راستہ بھٹک گئیں تھیں اور انھوں نے بعض افراد سے راستے کی تلاش کے لیے مدد مانگی تھی جنھوں نے انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ریپ کے بعد خاتون سیاح نے ڈنمارک کے سفیر کی موجودگی میں تفصیلی بیان ریکارڈ کروایا تھا۔
سنہ 2012 میں طالبہ کے ساتھ ریپ کے بعد ملک بھر میں ریپ کے قوانین سخت کرنے کے بارے میں آواز اُٹھائی گئی ہیں۔
اگرچہ ملک بھر میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی حملے جاری ہیں۔
بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں بھی امریکی سیاح کے ساتھ اجتماعی ریپ کے معاملے میں مقامی عدالت نے نیپال کے تین باشندوں کو 20-20 سال کی سزا سنائی تھی۔







