نریندر مودی نے ہرات میں سلمیٰ ڈیم کا افتتاح کردیا
انڈین وزیراعظم نریندر مودی افغانستان کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے ہرات میں سلمیٰ ڈیم کا افتتاح کیا ہے۔
سلمیٰ ڈیم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ ہے اور یہ ایران کی سرحد سے متصل صوبہ ہرات میں چشت شریف کے مقام پر واقع ہے۔
یہ 30 کروڑ ڈالر کا منصوبہ ہے۔ اس ہائیڈرو پراجیکٹ سے 42 میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی اور تقریباً 75 ہزار ایکڑ اراضی کو پانی کی سہولت دستیاب ہوگی۔
خیال رہے کہ کہ اس سے قبل نریندرمودی دسمبر 2015 میں کابل میں افغانستان کی پارلیمان کی عمارت کا افتتاح کر چکے ہیں جو انڈین تعاون سے تعمیر کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سلمیٰ ڈیم کا سنگ بنیاد سنہ 1975 میں صدر داؤد کی دور حکومت میں رکھا گیا ہے۔ اس وقت سعودی عرب نے اس منصوبے پر سرمایہ کاری کی حامی بھری تھی لیکن ملک میں عدم استحکام اور خانہ جنگی کے باعث یہ منصوبہ کئی دہائیوں تک زیرالتوا رہا۔
انڈیا نے 1970 کی دہائی میں ہری رود یا دریائے ہری اور سلمیٰ کا سروے کیا تھا اور سنہ 2005 میں انڈیا نے اعلان کیا کہ وہ اس ڈیم کی تعمیر اور اس کے اخراجات فراہم کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اب کچھ تکنیکی اور سکیورٹی کی مشکلات کے باوجود یہ منصوبہ مکمل ہوچکا ہے۔
یہ ڈیم ہرات کے مغرب میں 170 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے اور اسے انڈیا افغانستان دوستی ڈیم کا نام بھی دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریائے ہری پر تعمیر کیا گیا یہ ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم 20 کلومیٹر لمبا، تین کلومیٹر چوڑا اور 107 میٹر بلند ہے۔
سلمیٰ ڈیم میں 64 کروڑ کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اس میں پانی کرنے کا کام ایک سال پہلے شروع ہوا تھا اور اب تک 50 کروڑ کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کیا جا چکا ہے۔
اس منصوبے کے ذریعے چشت ضلعے سے لے کر ایرانی سرحد تک دو لاکھ ایکڑ اراضی کو آبپاشی کی سہولت میسر آسکتی ہے۔
اس میں تین ٹربائنز ہیں اور ہر ٹربائن 14 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتی ہے اس طرح کل 42 میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے جس سے 40 ہزار کے قریب گھرانے مستفید ہوں گے۔
گذشتہ چند دہائیوں میں یہ افغانستان میں تعمیر ہونے والا سب سے بڑا اور بنیادی منصوبہ ہے جس کی 30 کروڑ ڈالر کی لاگت آئی ہے، جو اسے انڈیا سے امداد کی صورت میں ملی تھی۔

اس ڈیم کی تعمیر سے درہائے ہری کا ایران کو ملنے والے پانی میں 73 فیصد کمی ہوگی۔ ایران اس دریا کے پانی سے اپنے مشرقی علاقوں کی آب پاشی فراہم کرتا ہے۔
ایران کی جانب سے بار ہا مرتبہ پانی کے بہاؤ میں کمی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔
ڈیم کی انتظامات اور مرمت کے لیے 50 افغان انجینئرز کو تربیت فراہم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
انڈیا افغانستان دوستی ڈیم کو نہ صرف پانی پر کنٹرول کرنے کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا بلکہ اسے مقامی سطح پر ہائیڈو پاور کی پیداوار کا منصوبہ بھی خیال کیا جارہا ہے۔
گذشتہ چند برسوں میں سلمیٰ ڈیم پر کی سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں پر کئی بار حملے ہوئے ہیں جن میں کئی افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
کچھ افراد کی جانب سے اس کا الزام ایران اور پاکستان پر عائد کیا جاتا ہے لیکن افغان حکومت کی جانب سے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیا گیا۔







