افغانستان کا ’جہاد میوزیم‘

میوزیم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمیوزیم کا مقصد مستقبل کی نسلوں کے لیے جنگ کی یادوں کو محفوظ رکھنا ہے
    • مصنف, شاہ زیب جیلانی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، ہرات

افغانستان کے شہر ہرات کے مضافات میں ایک گول عمارت ہے جس پر سفید اور نیلی ٹائلیں لگی ہوئی ہیں۔

ان پر 1979 کی افغانستان پر سویت جارحیت کے بعد دس سال تک جاری رہنے والی جنگ میں ہلاک ہونے والے مرد اور عورتوں کے نام درج ہیں۔

اس عمارت کے گرد ایک باغ ہے جس میں افغان مجاہدین کے ہاتھوں پکڑے جانے والے سویت اسلحے اور ہتھیاروں کی نمائش کی گئی ہے جن میں سویت جنگی ہیلی کاپٹر، ایک مگ فائٹر جیٹ اور ایک ٹینک بھی شامل ہے۔

ان وقتوں میں جہاد کو صرف غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ مجاہدین کو اچھا سمجھا جاتا تھا اور پاکستان کے ذریعے امریکہ اور سعودی عرب انھیں اسلحہ فراہم کرتے تھے۔

وہ جنگ 10 سال جاری رہی۔ سویت یونین کو 1989 میں افغان مزاحمت سے مجبور ہو کر واپس جانا پڑا۔

لیکن اپنے پیچھے بھی وہ ایک تباہ شدہ ملک چھوڑ گئے۔ دس سال کی جنگ میں تقریباً دس لاکھ افغان شہری اور 15,000 سویت فوجی مارے گئے۔

آہستہ آہستہ امریکہ کی دلچسپی افغانستان میں کم ہوتی گئی اور افغانوں کو ہی ٹکڑے ٹکڑے جوڑ کر ملک بنانے کی کوشش کرنا پڑی۔

لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ افغانستان میں خانہ جنگی چھڑ گئی اور بچا کھچا ملک بھی تباہ ہوتا گیا۔

لیکن یہ میوزیم افغانستان کے اس تکلیف دہ ماضی پر روشنی نہیں ڈالتا۔ اس کا محور صرف سویت فوج کے خلاف جنگ ہے۔

شیشے کے پیچھے روسی ساخت کی اے کے۔47 جیسی بندوقیں، گولہ بارود، گرینیڈ، اور مختلف قسم کی وہ بارودی سرنگیں ہیں جن کی وجہ سے بہت سے افغان معذور ہو گئے تھے۔

اس میں رکھی گئی پینٹنگز میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح افغانوں نے سویت یونین کی فوجی طاقت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

میوزیم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجن کمانڈروں کو دکھایا گیا ہے ان میں ’ہرات کے شیر‘ اسماعیل خان بھی ہیں

وہاں جانے کے لیے آپ کو میوزیم کے ’ہال آف فیم‘ سے گزرنا پڑتا ہے جس میں دونوں طرف سرکردہ مجاہدین کمانڈروں کے پورٹریٹس لگے ہوئے ہیں۔

یہ 1980 کی دہائی کے افغان ہیرو ہیں جو اپنے ملک پر غیر ملکی قبضہ ختم کرنے کے لیے ایک ’مقدس جنگ‘ لڑ رہے تھے۔

میوزیم میں ہرات کے سابق گورنر اور با اثر جنگجو سردار اسماعیل خان کا پورٹریٹ نمایاں طور پر لگایا گیا ہے۔

عمارت کے اوپر والے حصے میں ’سٹل لائف‘ پینٹنگز میں جنگ کے خوفناک مناظر دکھائے گئے ہیں۔ آوازوں اور تصاویر سے میوزیم میں جنگ کی اندوہناکی کو زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

فرش پر خون میں لت پت لاشیں پڑیں ہیں، روشنی چمکتی ہے اور آپ کو گولیاں چلنے کی آوازیں آتی ہیں، بم چلتے ہیں اور چیخیں سنائی دیتی ہیں۔

اس میں افغانوں کو جرات مند اور بہادر اور قابض فوج کو سنگدل اور شکست یافتہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

میوزیم کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل کی نسلوں کے لیے جنگ کی ہولناکی کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ملک کے درد ناک ماضی سے کچھ سیکھ سکیں۔

لیکن شاید افغانستان میں آپ کو جنگ کی ہولناکی کو سمجھنے کے لیے میوزیم جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ملک اپنے آپ سے اور غیر ملکی فوجوں سے کئی دہائیوں سے جنگ کر رہا ہے۔

اس کے اثرات ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ اور اکثر افغان کسی نہ کسی طریقے سے اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

اب جب افغانستان کے متعلق مغرب کی دلچسپی ایک مرتبہ پھر کم ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے یہاں کے باسی ملک کی سلامتی اور استحکام کے متعلق ایک مرتبہ پھر حقیقی طور پر فکر مند ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

جہاد میوزیم کے اسسٹنٹ شیخ عبداللہ کہتے ہیں کہ ’افغانوں کے دلوں میں جنگ کا درد ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی دوبارہ ملک کو تباہ ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔‘