افغانستان: ہرات میں امریکی قونصل خانے پر حملہ

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد جھڑپ کافی دیر تک جاری رہی
،تصویر کا کیپشنمقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد جھڑپ کافی دیر تک جاری رہی

جمعہ کی صبح افغانستان میں طالبان نے مغربی شہر ہرات میں امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا ہے۔

طالبان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی قونصل خانے کی عمارت کے قریب ایک خود کش حملہ کیا گیا ہے جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔

<link type="page"><caption> افغانستان: تین غیر ملکی کنٹریکٹر ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/07/120722_herat_three_killed_sa.shtml" platform="highweb"/></link>

اطلاعات کے مطابق بم دھماکے کے بعد ہونے والی جھڑپ میں متعدد افغان پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

افغان فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی دھماکے سے قونصل خانے کی بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا جس کے بعد حملہ آور عمارت کے احاطے میں داخل ہو سکے۔ خودکش حملے کے لیے ایک گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد جھڑپ کافی دیر تک جاری رہی۔

برطانوی وقت کے مطابق چار بجے ایساف نے ایک ٹوئیٹ کے ذریعہ اعلان کیا کہ جھڑپ ختم ہو چکی ہے اور کارروائی میں تمام حملہ آور ہلاک ہوگئے ہیں۔

کابل میں بی بی سی ڈیوڈ لوئن کا کہنا ہے کہ نائن الیون کی تاریخ کے قریب یہ حملہ کرنے کا مقصد اس بات کو واضح کرنا ہے کہ شدت پسند بارہ سال بعد بھی اتنی صلاحیت رکھتے ہیں کہ افغانستان میں روز مرہ کی زندگی معطل کی جا سکے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دو افغان پولیس اہلکاروں کے علاوہ قونصل خانے کا ایک محافظ بھی ہلاک ہوئے ہیں اور خواتین اور بچوں سمیت سترہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ قونصل خانے کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

افغانستان میں کام کرنے والے پیٹر بزاؤروجنج نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اپنی عمارت کی چھت سے دھماکے کے بعد کالے بادل دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی وجہ سے ان کی عمارت لرز اٹھی۔

ہرات ایرانی سرحد کے قریب ہے اور گذشتہ چند سالوں سے قدرے پر امن علاقہ مانا جاتا ہے۔

اس ماہ کے آغام میں طالبان نے مشرقی افغانستان یں طورخم میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تھا جس میں تین شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔