خیبر ایجنسی: کارروائی میں 12 ٹن بارود برآمد

شاکس کا علاقہ پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد کے قریب واقع ہے
،تصویر کا کیپشنشاکس کا علاقہ پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد کے قریب واقع ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نیم فوجی دستے فرنٹیئر کور نے سرچ آپریشن کے دوران تقریباً بارہ ٹن بارود اور دیگر دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔

یہ کارروائی تحصیل باڑہ میں پشاور شہر کی سرحد کے بالکل قریب شاکس کے مقام پر کی گئی ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن کے دوران بارود کے علاوہ فیوز، تاریں، ریموٹ کنٹرول، بارودی سرنگ، بیٹریاں اور پوٹاشیم کلورائید برآمد کی ہیں۔ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے اسی مقام سے ایک مشتبہ شحص کو گرفتار بھی کیا ہے جس کے قبضے سے پشتو اور عربی زبان میں لکھا ہوا لٹریچر اور پمفلٹ بھی برآمد ہوا ہے۔

شاکس کا علاقہ پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد کے قریب واقع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بارود اور اس کے علاوہ دیگر مواد بم بنانے اور یہاں تک کہ بارودی سرنگیں تیار کرنے میں استعمال ہو سکتا تھا۔

ایف سی ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ کارروائی ایک اطلاع پر کی گئی ہے جس کے بعد اب مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ باڑہ میں تقریباً چار سال سے فوجی آپریشن جاری ہے اور گزشتہ ماہ پشاور سے باڑہ جانے والے تمام راستے کھولے گئے ہیں۔

باڑہ بازار گزشتہ چار سال سے اب تک بند ہے جس سے علاقے میں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں اور تاجر دیگر علاقوں کو منتقل ہو چکے ہیں ۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے مختلف مقامات پر گزشتہ سال بھی ایک فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان نقل مکانی کر کے پشاور کے قریب جلوزیی کیمپ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے یا اپنے طور پر کرائے کے مکانوں میں رہائش پزیر ہو گئے تھے۔ ان متاثرہ افراد کی واپسی کا سلسلہ تاحال باقاعدہ طور پر شروع نہیں ہوا ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں دو نا معلوم افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ دونوں افراد کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور انھیں ہلاک کرنے کے بعد کھیتوں میں پھینکا گیا تھا۔ چارسدہ میں دو ہفتے پہلے مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی لاش بھی ملی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ میں جہاں لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت ہر ماہ ہوتی ہے، وہاں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے گزشتہ سال پشاور میں بوری بند لاشوں کے ملنے پر بھی از خود نوٹس لیا تھا لیکن لاشوں کے ملنے کی اطلاعات صوبے کے مختلف مقامات سے موصول ہوتی رہتی ہیں۔