خیبر ایجنسی سے بائیس مسخ شدہ لاشیں برآمد

حکام کے مطابق تمام لاشیں بری طرح مسخ ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت میں مشکل پیش آرہی
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق تمام لاشیں بری طرح مسخ ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت میں مشکل پیش آرہی

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ بائیس نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی کےایک پولیٹکل اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو تصدیق کی کہ جمعرات کی رات باڑہ بازار سے چند کلومیٹر دور آکاخیل کےعلاقے میں سڑک کےکنارے سے بائیس نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

<link type="page"><caption> خیبر ایجنسی میں مزید دو سکول تباہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/01/110110_khyber_schools_ka.shtml" platform="highweb"/></link>

انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مرنے والے یہ افراد کون ہیں اور ان کو کس نے ہلاک کیا ہے تاہم بظاہر لگتا ہے کہ یہ افراد سکیورٹی فورسزکی طرف سے جاری آپریشن میں مارے گئے ہیں۔

ان کے مطابق تمام لاشیں بری طرح مسخ ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت میں مشکل پیش آرہی۔

انہوں نےکہا کہ لاشوں کی حالت دیکھ کر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان افراد کو دو دن پہلے ہلاک کیا گیا ہے۔ سرکاری اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ نے تمام لاشیں قبضہ لے کر ان کو شاہ کس کے علاقے میں واقع ایک مقامی قبرستان میں امانتاً دفن کر دیا گیا ہے۔

ادھر باڑہ کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے یہ تمام افراد شدت پسند ہیں جنہیں کچھ عرصہ قبل سکیورٹی فورسز کی طرف سے مختلف کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم سرکاری طور پر اس اطلاع کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

خیال رہے کہ باڑہ میں گزشتہ کئی سالوں سے سکیورٹی فورسز کی طرف سےشدت پسند تنظیموں کےخلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم رمضان کے مہینے میں ابھی تک باڑہ یا آس پاس کے کسی علاقے سے تشدد کے واقعہ کی کوئی اطلاع ملی ہے اور نہ کوئی کارروائی کی گئی ہے۔

اس سے پہلے بھی باڑہ کے علاقے میں متعدد بار شدت پسندوں کی لاشیں ملنےکے واقعات پیش آئے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب بھی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز پر کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو اس کے دوسرے دن شدت پسندوں کی لاشیں ملتی ہیں اور یہ سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے جبکہ ایسی لاشوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ باڑہ کےعلاقےمیں شدت پسندوں کی طرف سے اغواء کیے افراد کی لاشیں بھی ملتی رہی ہے۔

حقوق انسانی کمیشن کی تشویش

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے خیبر ایجنسی کےعلاقے باڑہ میں مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مقتولین کی موت کا سبب بننے والے حالات و واقعات جاننے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔

کمیشن کی جانب سے جمعہ کو جاری ہونے والے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متاثرین کی شناخت کے لیے ملک بھر میں جاری بدامنی کے انسداد کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور غیر جانبدارانہ کمیشن کی مدد سے قاتلوں کی نشاندہی ہو سکے گی اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے گا۔

بیان کے مطابق’لاشوں کی برآمدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بلخصوص فاٹا یعنی قبائلی علاقوں میں انسانی زندگی کس حد تک غیرمحفوظ ہے۔اس سے قطع نظر کے متاثرین کون ہیں، یہ اقدام معاشرے کی بربریت کی انتہائی بدترین عکاسی کرتا ہے‘۔