خیبر: آپریشن میں تین اہلکار سمیت بائیس ہلاک

پاکستانی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں میدان کا علاقے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ یعنی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس آپریشن میں انیس شدت پسندوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ شب خیبر ایجنسی واقع علاقے میدان اور کُرم ایجنسی کے علاقے پاڑہ چمکنی میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک فوجی افسر سمیت تین اہلکار ہلاک اور تین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑائی کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے شدید مزاہمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن سکیورٹی فورسز نے اُن کے زیر تسلط علاقے خالی کروا لیے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی آبادی نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ بھر پور تعاون کیا ہے ۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقامی افراد نے اپنے علاقوں کو شدت پسندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دفاعی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔
خیبر ایجنسی میں وادئ تیراہ تقریباً سو کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایسا قبائلی خطہ ہے جس کی سرحدیں تین ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کُرم سے ملتی ہیں۔ اس علاقے میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپیں جاری ہیں۔مبصرین کے خیال میں اس علاقے کی دفاعی اہمیت بہت زیادہ ہے اور یہیں سے شمال میں افغانستان کی سرحد پر تعینات پاکستانی فوج کے لیے سپلائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ وادیِ تیراہ سے ان جھڑپوں کے نتیجے میں 40 ہزار افراد سے زیادہ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
ادھر قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں پاڑہ چکمنی میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں کئی دنوں سے جاری ہیں۔ علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بڑی تعداد میں مقامی آبادی پاڑہ چنار اور دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کر گئی ہے۔







