تیراہ میں آپریشن، چار اہلکاروں سمیت اٹھارہ ہلاک

تیراہ کا علاقہ اورکزئی ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع ہے
،تصویر کا کیپشنتیراہ کا علاقہ اورکزئی ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں تیراہ کے مقام پر سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں چار اہلکاروں سمیت اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اس آپریشن میں چودہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔ یہ کارروائی خیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقے تیراہ میں کی گئی جہاں کچھ عرصے سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس کارروائی کے لیے سکیورٹی فروسز کے ہمراہ امن لشکر کے رضاکار بھی شامل تھے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس جھڑپ میں امن لشکر کے تین رضا کار ہلاک ہوئے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق وادی تیراہ سے چالیس ہزار افراد نے تشدد کے واقعات کی وجہ سے نقل مکانی کی ہے اور وہ پر امن علاقوں میں رہائش لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

تیراہ میں جاری کشیدگی اس لیے واضح نہیں ہے کیونکہ وہاں اس تین وقت تین کالعدم تنظیموں لشکر اسلام، انصار الاسلام اور تحریک طالبان کے مابین جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ انصار الاسلام کے رضا کار سکیورٹی فورسز کے ہمراہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے بر سر پیکار ہیں۔

تیراہ کا علاقہ ایک طرف افغانستان اور دوسری جانب اورکزئی ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔