قندوز ہسپتال پر امریکی بمباری’جنگی جرم نہیں تھا‘

بمباری سے متاثر ہونے والے افراد نے تحقیقات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبمباری سے متاثر ہونے والے افراد نے تحقیقات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ افغان شہر قندوز میں بین الاقوامی امدادی تنظیم کے ہسپتال پر امریکی افواج کی بمباری جنگی جرم نہیں تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل جوزف ووٹل نے بمباری کے واقعے کی تحقیقات میں 16 امریکی فوجیوں کو انتظامی سزائیں دینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’المناک حملہ‘ انسانی اور تکنیکی غلطیوں کی وجہ سے پیش آیا۔

انھوں نے کہا ہے کہ یہ غلطی غیر ارادی تھی اور یہ جنگی جرم کے زمرے میں نہیں آتی۔

جنرل جوزف ووٹل نے ہسپتال پر بمباری کے واقعے کی تحقیقات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ کئی دنوں سے جاری لڑائی کی وجہ سے عملہ تھک چکا تھا اور اس کے بعد ضروری معلومات حاصل کیے بغیر منصوبہ بندی کی گئی۔

’تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ وہ واقعہ انسانی غلطیوں، طریقہ کار میں غلطیوں، آلات کا کام نہ کرنا جیسے مشترکہ عوامل کی وجہ سے پیش آیا جس میں اہلکار نہیں جانتے تھے کہ وہ ہسپتال کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

بمباری سے ہسپتال میں 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبمباری سے ہسپتال میں 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے

انھوں نے مزید کہا کہ حقائق میں یہ غیر ارادی تھا اور جان بوجھ کر کیا جانے والا جنگی جرم نہیں تھا۔

دوسری جانب ایم ایس ایف یعنی میڈیسنز سانز فرنٹیئرز نے پینٹاگون کی تحقیقات کے بعد کہا ہے کہ یہ ناقابل فہم ہے کہ بمباری کو روکا نہیں گیا تھا۔

ایم ایس ایف نے اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کرانے کا دوبارہ مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کی صدر مینی نکلولی کے مطابق آج کی بریفنگ اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ گنجان آباد علاقے میں بغیر کنٹرول کے ایک فوجی آپریشن میں امریکی فورسز جنگ کے بنیادی قوانین کی پابندی کرنے میں ناکام رہیں۔

دوسری جانب ہسپتال پر بمباری کے واقعے میں بچ جانے والے متاثرین نے واقعے میں ملوث اہلکاروں کو مجرمانہ الزامات کی بجائے انتظامی کارروائی کے تحت سزائیں دینے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

خالد احمد بمباری میں زخمی ہو گئے تھے اور اب بھی ان کی ٹانگ مفلوج ہے۔ انھوں نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا ہے کہ ملزموں کو لازمی جیل بھیجا جانا چاہیے۔

جمعرات کو بمباری کے واقعے کی تحقیقات میں 16 امریکی فوجیوں کو انتظامی سزائیں دی گئی تھی۔

گذشتہ برس اکتوبر میں ایم ایس ایف یعنی میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کے ہسپتال پر ہونے والی بمباری سے ایم ایس ایف کے عملے کے ارکان سمیت 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی فوج کی تحقیقات میں ہسپتال پر بمباری کو’انسانی غلطی‘ قرار دیا گیا تھا۔

میڈیسنز سانز فرنٹیئرز نے اس کارروائی کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملے کے فوراً بعد افغان اور اتحادی افواج کی قیادت کو مطلع کیا گیا لیکن بمباری مزید آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔

اس کے بعد افغانستان میں تعینات امریکہ اور نیٹو کی افواج کے نئے کمانڈر نے واقعے پر معافی مانگی تھی۔

اس کے علاوہ بمباری پر امریکی صدر براک اوباما نے بھی معذرت طلب کی تھی۔