’خواتین کا مزار کو ہاتھ لگانا شریعت کے خلاف ہے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, موہن لال شرما
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
انڈیا میں مذہبی مقامات میں خواتین کے داخلے کے لیے تحریک چل رہی ہے۔ مہم چلانے والی خواتین ممبئی میں مسلمانوں کی درگاہ حاجی علی میں جائیں گی۔
دوسری جانب حاجی علی درگاہ ٹرسٹ کے ترجمان عبدالستار کا کہنا ہے کہ خواتین اگر باہر تک آتی ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن مزار تک خواتین کا جانا ٹھیک نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے: ’مزار پر تو اب بھی خواتین آتی ہیں لیکن انھیں مزار کو چھونے کی اجازت نہیں ہے۔‘
سنہ 2011 میں عورتوں کو مزاروں اور مندروں میں جانے کی اجازت تھی جس کے بعد اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔
سنہ 2011 تک عورتوں کے مزار پر جانے کی اجازت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ’جو غلطی ہو گئی ہے کیا اسے زندگی بھر کرتے رہیں، جب تک دنیا ختم نہ ہو جائے؟‘
انھوں نے کہا: ’جب جاگے تبھی سویرا۔ مجھے احساس ہوا کہ عورتوں کا مزار کے پاس جانا ٹھیک نہیں ہے۔ ان کا تو گھر سے بے پردہ نکلنا تک ٹھیک نہیں تو مزار کے پاس جانا تو بہت دور کی بات ہے۔ ہائی کورٹ نے اگر یہ فیصلہ سنایا ہے کہ جہاں مرد جا سکتے ہیں، وہاں عورتیں بھی جا سکتی ہیں تو اس میں میں کیا کر سکتا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہHaji Ali Dargah Trust
دوسری طرف ترپتي دیسائی کا کہنا ہے کہ ’سنہ 2011 سے پہلے تک خواتین درگاہ کے اندر مزار تک جاتی تھیں۔ اچانک ٹرسٹيز نے ان پر پابندی لگا دی۔ سنہ 2011 سے پہلے جہاں تک خواتین جاتی تھیں، وہاں تک خواتین دوبارہ جائیں۔ یہی ہمارا مطالبہ ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ان کی حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی مفتی منظور سے بات ہوئی ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ خواتین کو وہاں تک بالکل نہیں جانے دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ شریعت کے خلاف ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھوماتا رنراگنی بریگیڈ کی صدر ترپتی دیسائی اس سے پہلے شنی شنگاپور مندر، ترينو كیشور مندر اور کولہاپور کے مہالکشمی مندر میں خواتین کے داخلے کے حق کے لیے تحریک چلا چکی ہیں۔







