عورتوں کو مندر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں مظاہرین نے ایک عدالتی حکم کی پروا نہ کرتے ہوئے ریاست مہاراشٹر میں خواتین کو ایک ہندو مندر میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
انڈیا میں کئی مندروں میں عورتوں کا داخلہ منع ہے۔
تاہم ممبئی کی ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ مندروں میں داخلہ عورتوں کا بنیادی حق ہے اور جو کوئی انھیں روکنے کی کوشش کرے گا، اسے چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔
خواتین سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ شنی شنگھناپور مندر کے اندرونی حصے تک جانے کی کوشش کریں گی اور انھوں نے پولیس سے تحفظ کی درخواست کی ہے۔
ایک سو کے لگ بھگ دیہاتیوں نے، جن میں خاصی تعداد میں عورتیں بھی شامل تھیں، بھوماتا رنراگنی بریگیڈ کہلانے والی خواتین کو ہفتے کے دن مندر میں داخل ہونے سے روک دیا۔
شنی شنگھناپور مندر انڈیا کے ان گنے چنے مندروں میں شامل ہے جہاں صدیوں سے صرف مردوں ہی کو داخلے کی اجازت ہے۔
سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ جمعے کے روز دیے جانے والے عدالتی حکم کا امتحان لے رہی تھیں، جس میں کہا گیا تھا کہ عورتیں مندروں میں جا سکتی ہیں۔
عدالت نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ خواتین کے اس حق کا تحفظ کرے۔ اب کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ ضرورت پڑی تو پولیس کی مدد سے مندر میں داخل ہونے کی کوشش کریں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کارکنوں کی رہنما تروپتی دیسائی نے میڈیا کو بتایا: ’معزز عدالت نے ہمارے عبادت کرنے کا حق تسلیم کیا ہے۔ پولیس کو چاہیے کہ وہ ہمیں تحفظ فراہم کرے۔ ہم مندر کے اندرونی حصے تک (جہاں شنی کا بت رکھا جاتا ہے) جائے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ عورتوں کو یہ حق نہ دینا ’صنفی عدم مساوات کی علامت ہے۔‘
پچھلے سال جب ایک عورت چھپ کر مندر میں داخل ہو گئی تو پروہتوں نے اس دھو کر صاف کیا تھا۔







