کشمیر میں مندروں کی تعمیر مگر پنڈت غائب

- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر میں اونچے پہاڑوں کے دامن میں ایک شیو مندر ہے۔ پہاڑ آپ کے پیچھے ہو تو سامنے معروف ڈل جھیل نظر آتی ہے۔
شاید اس جگہ کے سکون اور خوبصورتی کو ذہن میں رکھتے ہوئے قدیم زمانے میں مہارشيوں نے یوگا کےلیے اس جگہ کو منتخب کیا تھا۔
شاید اسی سبب اس سے ملحق زمین پر مغل بادشاہ جہانگیر نے نشاط باغ تعمیر کروایا تھا۔
یہاں کبھی ایک قدیم مندر ہوا کرتا تھا لیکن آج مندر کے احاطے کی تمام عمارتیں نئی ہیں۔
اس عمارت کا نام ’گوپی تیرتھ مندر‘ ہے اور اس کے خادم مہارج کرشن پنڈتا کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں ’یہ ایک خفیہ مقام تھا جہاں سادھو سنت اور مہاتما آیا کرتے تھے۔‘
ان کے مطابق، ’یہ ایک دھیان (مراقبے) کا مرکز تھا، جسے 5000 سال سے بھی پہلے قائم کیا گیا تھا۔‘
وہ ایک بڑے پتھر پر لکھی ایک قدیم رسم الخط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں: ’یہ شاردا رسم خط ہے اسے جو پڑھ پاتے ہیں ان کے مطابق، اس میں یہ لکھا ہے کہ ساڑھے پانچ ہزار سال پہلے دھیان کے لیے یہاں بھگوان کرشن آئے تھے۔‘

انھوں نے اس کے بعد ایک تالاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ اسی وقت کا ہے‘ جس میں پانی ایک پہاڑی چشمے سے آتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پنڈتا کے دعوؤں میں کتنی سچائی ہے، یہ کہنا مشکل ہے، لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کشمیری ہندوؤں کی ایک اہم زیارت گاہ تھی جو سنہ 1989 میں شدت پسند تحریک شروع ہونے کے کئی سال بعد تک گمنام رہا۔
اس کی دیواریں گر گئی تھیں اور مقامی لوگوں نے مندر کے احاطے کی زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
کرشن پنڈتا کہتے ہیں: ’یہ دیکھیے، یہ شیولنگ قدیم زمانے کا ہے، جو باہر پڑا تھا۔ مندر کی عمارت منہدم ہو گئی تھی۔‘
اس کی مرمت کا کام سنہ 2011 میں ’سماجی وکاس سنستھان‘ نامی تنظیم نے کرایا۔

پنڈتا اسی ادارے سے منسلک ہیں اور ان کے مطابق تنظیم نے وادی میں اب تک 14 زیارت گاہوں سے ناجائز قبضہ ہٹا کر وہاں مرمت کا کام مکمل کیا ہے۔
’کل جماعتی تال میل کمیٹی‘ کئی اداروں کو ملا کر بنائی جانے والی ایک تنظیم ہے جس کا کام کشمیر میں بوسیدہ اور منہدم مندروں کی تعمیر یا مرمت کرانا ہے۔
اس کی دیکھ بھال کرنے والے ونود پنڈت مندروں کی مرمت کے تعلق سے کافی سنجیدہ ہیں۔
بابری مسجد منہدم کیے جانے کے بعد سرینگر سے 70 کلومیٹر دور کولگام میں ایک مندر کو توڑ دیا گیا، جس کی سنہ 2013 میں اس ادارے نے مرمت کرائی۔
ونود پنڈت کہتے ہیں: ’ماتا كاتياينی مندر 400 سال پرانا ہے، جس پر 1992 کے بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہزاروں لوگوں نے دھاوا بول دیا اور توڑ پھوڑ کی۔‘

ونود پنڈت مزید کہتے ہیں: ’ملیٹینسي کے باوجود ہم نے ان مندروں کی مرمت کی کیونکہ ہمارا ادارہ ان مندروں سے منسلک ہے۔‘
ان کے مطابق، ’مندروں کی تعمیر ہو، ان کی مرمت یا پھر زائرین کی آمد یہ سارے کام سرکاری مدد کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
’حکومت زائرین کو تحفظ ضرور فراہم کرتی ہے لیکن مندروں کی مرمت کا 99 فیصد کام کشمیری پنڈتوں کے ادارے کر رہے ہیں۔‘
مندر ہوں یا زیارت گاہ کشمیری پنڈتوں کی زندگی کا یہ اٹوٹ حصہ ہیں۔ کشمیر وادی کی گود سے لے کر ہزاروں فیٹ بلند پہاڑوں اور اس کے دامن میں سینکڑوں مندر اور زیارت گاہیں ہیں۔
کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کے باوجود ان مقامات سے لگاؤ کی وجہ سے ان میں سے بہت سے جموں سے وادی میں آکر مرمت کے کام میں لگے۔

،تصویر کا ذریعہbbc
وادی میں کتنے مندر ہیں اور کتنوں کو نقصان پہنـچا اس کے اعداد و شمار کسی کے پاس نہیں۔ ونود پنڈت کہتے ہیں کہ ’ملیٹینسي کے دوران اور بابری مسجد کے انہدام کے بعد 70 سے 80 مندروں کو نقصان پہنچایا گيا۔
’ماتا كاتيايني مندر سے کچھ دور سڑک کنارے ایک مندر تھا، جسے مکمل طور گرا دیا گیا تھا۔ اب وہ صرف اینٹوں کا ڈھیر ہے۔‘
اس کے پجاری اور مقامی مسلم برادری کے مطابق، اس مندر کی تعمیر نو کے لیے کئی بار حکومت سے مطالبہ کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
سری نگر میں چدرپورہ ہرون محلے میں ماتا بھولیشوري کا ایک قدیم مندر ہے، جہاں مرمت کا کام شروع ہوا تھا، لیکن فنڈ کی کمی سے اسے پورا نہیں کیا جا سکا۔

اسی طرح سرینگر میں ایک مندر کے آبائی پجاری رتن لال کول نے ایک جلی ہوئی عمارت کی طرف اشارہ کرتے کہا کہ ’یہ اس مندر کی دھرمشالہ (سرائے) تھی، جسے 1992-93 میں جلا دیا گیا تھا۔ یہ عمارت آج بھی اسی حال میں ہے۔‘
تمام کشمیری پنڈتوں نے ہمیں بتایا کہ اب مندروں پر حملے نہیں ہوتے۔ مرمت کے کام میں رکاوٹ نہیں ہے اور کشمیری مسلمانوں کا انھیں مکمل تعاون حاصل ہے۔
کرشن پڈتا کہتے ہیں، ’ہم نے اپنے 14 مقدس مقامات کی مرمت کرائی ہے، جن کے تمام مزدور مسلمان تھے۔ ہمارے کچھ مندروں کی حفاظت کرنے والے بھی مقامی مسلمان ہیں۔
’لیکن اب بھی مسائل بہت ہیں۔ کچھ مندروں کی مرمت کے باوجود وہاں کی پوجا کرنے والے کشمیری پنڈت نہیں ہیں۔ کچھ بند پڑے ہیں۔ کچھ مندروں کے دروازوں پر تختیاں لگی ہیں جن پر مندر کے پجاریوں کے نام اور فون نمبر لکھے ہیں۔

’کوئی پوجا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تو اسے فون کرکے پنڈت کو بلانا پڑتا ہے۔ زیادہ تر مندر کھلے ہیں، لیکن ان میں پجاری نہیں ہیں۔ بعض مندر خاص مذہبی مواقع پر کھولے جاتے ہیں۔‘
کشمیری پنڈتوں کی اگر واپسی ہوتی ہے تو یہ مندر ان کا ضرور استقبال کریں گے۔







