کابل میں خودکش دھماکہ، ’28 ہلاک، 327 زخمی‘

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم سے کم 28 افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

مرنے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ بم حملے سے قبل بعض مسلح افراد سرکاری عمارت میں داخل ہوئے جو ملک کے سپیشل پروکیشن یونٹ کے زیرِ استعمال تھی۔

یہ فورس اعلی سیاسی شخصیات کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ حکام کے مطابق حملہ کے نشانہ بننے والے علاقے کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔

افغانستان کی حکومت کے نائب ترجمان جاوید فیصل کا بی بی سی پشتو سے بات کرتے کہنا ہے کہ اس حملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

افغان حکومت کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرنا تھا تاہم اب ایسی اطلاعات ہیں کہ اسے معطل کر دیا گیا ہے۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان صادق صدیقی کے مطابق منگل کی صبح پل محمد خان میں ہونے والا یہ حملہ خودکش دھماکہ تھا اور حملہ آور کار میں سوار تھا۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل ہی طالبان نے موسم بہار میں حملے شروع کرنے سے متعلق خبردار کیا تھا۔

رواں برس کے ابتدائی چند ماہ میں شدت پسندوں نے کابل کو متعدد بار خودکش بم حملوں کا نشانہ بنایا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرواں برس کے ابتدائی چند ماہ میں شدت پسندوں نے کابل کو متعدد بار خودکش بم حملوں کا نشانہ بنایا ہے

ملک کے صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

حملے کا نشانہ بننے والوں میں سکیورٹی اہلکار اور فوجی بھی شامل ہیں تاہم اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے اور وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 28 افراد ہلاک اور 327 زخمی ہوئے ہیں۔

زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنزخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گيا ہے

جس جگہ دھماکہ ہوا ہے وہ رہائشی علاقہ ہے اور اس کے قریب ہی افغان وزارتِ دفاع کی عمارت اور امریکی سفارت خانہ بھی ہے جہاں دھماکے کے بعد سائرن بھی بجائے گئے۔ تاہم سفارت خانے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے سفارت خانہ متاثر نہیں ہوا۔

دھماکے کی جگہ سے سیاہ دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے اور جلد ہی سکیورٹی اور امدادی اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد متعدد مسلح افراد ملک کے خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کی ایک عمارت میں داخل ہوتے دیکھے گئے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

رواں برس کے ابتدائی چند ماہ میں شدت پسندوں نے کابل کو متعدد بار خودکش بم حملوں کا نشانہ بنایا ہے جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔