کابل میں خود کش حملہ، 20 افراد ہلاک

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حملے طالبان کی جانب سے مذاکرات کے دوران اپنا پلہ بھاری رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حملے طالبان کی جانب سے مذاکرات کے دوران اپنا پلہ بھاری رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک خود کش حملے میں کم سے کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس عمارت میں افغان پولیس کے اس یونٹ کا دفتر ہے جو طالبان کے خلاف آپریشن کرتا ہے۔

پہلے کہا گیا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو ہے لیکن اب یہ بڑھ کر 20 ہو گئی ہے۔

حملے میں 25 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ شہر کے مغربی حصہ میں ہوا ہے۔

ہلاک ہونے والے زیادہ تر عام شہری ہیں۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حالیہ مہینوں میں شدت پسندوں نے کابل اور ملک کے دیگر حصوں میں حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔

حملہ آور کے بارے میں پہلے بتایا گیا کہ یہ کار حملہ تھا تاہم بعد میں بتایا گیا کہ حملہ آور پولیس سٹیشن میں آنے والے لوگوں کی قطار میں شامل تھا۔

ایک بوڑھے آدمی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کے ’میں نے تین لاشیں اور بہت سے زخمیوں کو دیکھا۔ پھر ایمبولینس آئی اور زخمیوں کو وہاں سے لے جانے لگی۔‘

قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔

تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حملے طالبان کی جانب سے مذاکرات کے دوران اپنا پلہ بھاری رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔