کابل میں برطانوی فوجیوں کے قافلے پر حملہ، سات افغان شہری زخمی

سڑک پر زیادہ ٹریفک ہونے کے باعث زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسڑک پر زیادہ ٹریفک ہونے کے باعث زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں غیر ملکی فوجی اہلکاروں پر خودکش حملے میں کم سے کم سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کابل کے مصروف بازار کے قریب رہائشی علاقے میں کیا گیا ہے۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جبکہ سڑک پر زیادہ ٹریفک ہونے کے باعث زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ حالیہ چند ماہ میں طالبان کی جانب سے کابل پر کیے جانے والے حملوں میں تازہ ترین اضافہ ہے۔

رواں سال اگست میں کابل میں فوجی کاررواں پر حملے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار شائمہ خلیل کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح ہونے والے حملے میں فوجی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

یہ واقعہ ستمبر میں قندوز پر طالبان کے قبضے کے بعد پیش آیا ہے۔

یاد رہے کہ قندوز پر طالبان کے قبضے کے باعث حکومت کو خاصی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے قندوز شہر پر قبضہ دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

 افغانستان میں پولیس اکیڈمی، نیٹو کی بیس، اور افغان فوج کی بیس پر کیے جانے والے حملوں میں مجموعی طور پر 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن افغانستان میں پولیس اکیڈمی، نیٹو کی بیس، اور افغان فوج کی بیس پر کیے جانے والے حملوں میں مجموعی طور پر 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں

افغانستان کے شمالی علاقوں میں اپنا اثررسوخ برقرار رکھنے اور مزید مستحکم کرنے کے لیے طالبان کی جانب سے جارہانہ حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے جس کے بعد اطلاعات کے مطابق بدخشاں، تخار، اور بغلان میں لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

رواں سال اگست کے اوائل میں کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے داخلی راستے کے نزدیک طالبان کی جانب سے کیے جانے والے خودکش حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ان واقعات سے قبل کابل پر تین خطرناک حملے ہو چکے ہیں۔ پولیس اکیڈمی، نیٹو کی بیس، اور افغان فوج کی بیس پر کیے جانے والے حملوں میں مجموعی طور پر 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔