کابل میں نیٹو افواج پر خود کش حملہ، 6 شہری ہلاک

گزشتہ ہفتے طالبان جنگجوؤں نے افغان پارلیمنٹ پر بھی حملہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگزشتہ ہفتے طالبان جنگجوؤں نے افغان پارلیمنٹ پر بھی حملہ کیا تھا

افغانستان کے دارالحکومت کابل کی ایک مرکزی شاہراہ سے گزرتے ہوئے نیٹو افواج کے ایک قافلے پر خود کش حملے میں 6 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس حملے میں 19 افراد زحمی بھی ہوئے ہیں اور ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

نیٹو ترجمان کے مطابق حملے میں کسی غیر ملکی فوجی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

سکیورٹی حکام کے مطابق یہ حملہ کابل شہر کے ایک اہم اور مصروف علاقے میں امریکی سفارتخانے اور ایئرپورٹ کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر کیا گیاہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملے کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے مقام پر نیٹو افواج کی تباہ شدہ گاڑیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

اطلات کے مطابق یہ دھماکہ کابل میں واقع غیر ملکی سفارتخانوں کے قریب ہوا ہے اور اس کی شدت سے ارد گرد کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

واضع رہے کہ گزشتہ ہفتے طالبان جنگجوؤں نے افغان پارلیمنٹ پر بھی حملہ کیا تھا۔

گزشتہ برس افغانستان میں فوجی کارروائی کے اختتام پر زیادہ تر غیر ملکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لیا گیا تھا۔ افغانستان میں اب بہت کم تعداد میں غیر ملکی فوجی موجود ہیں جن میں زیادہ تر افغانستان کی افواج اور سکیورٹی فورسزے کوعسکری تربیت دینے والے ماہرین شامل ہیں۔ کچھ امریکی فوج اب بھی طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

کابل پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں عام شہری اور غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

وزارت صحت کے اہلکار اسماعیل قوسی کے مطابق حملے کے زخمیوں میں عورتیں اور بچے بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہسپتال پہنچائے جانے والوں میں سے پانچ کی حالت بہت نازک ہے۔

رمضان کے مہنیے کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک کابل میں ہونے والا یہ دوسرا بڑا دھماکہ تھا۔

ماہ رمضان میں طالبان نے جنگ بندی کی ایک تجویز کو ٹھکرا دیا ہے اور شدت پسندوں کی طرف سے موسم گرما کی یلغار جاری ہے۔

گزشتہ ہفتے طالبان کابل میں پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

منگل کو ہی طالبان نے جنوبی صوبے ہلمند میں پولیس کے صدر دفتر کو نشانہ خود کش دھماکہ سے نشانابنایا۔