افغان فوجی ’ہیرو‘ کے لیے انعام میں نیاگھر

،تصویر کا ذریعہAFGHAN PRESIDNTIAL PALACE
افغانستان کی پارلیمان پر حملہ کرنے والے سات شدت پسندوں میں سے چھ کو ہلاک کرنے والے افغان فوجی کو ایک نئے گھر کی چابیاں بطور انعام دی گئی ہیں۔
افغان صدر اشرف غنی نے اپنے دفتر میں عیسیٰ خان نامی اس فوجی کے ساتھ اپنی تصویر ٹویٹ کی تھی۔
عیسیٰ خان کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ تمغہ بھی دیا گیا ہے۔
پیر کے روز ٹی وی چینلوں پر عیسیٰ خان کو حملہ آور طالبان کی لاشوں کے قریب کھڑا دکھایا گیا تھا۔
شدت پسندوں نے ایک خود کش کار حملہ بھی کیا تھا لیکن وہ پارلیمان کی عمارت میں داخل ہونے میں ناکام رہے تھے۔

عیسیٰ خان کی ٹوئٹر پر بھی کافی تعریف کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے انھیں ہلاک کر دیا۔ میں وہاں کھڑا تھا اور میں نے انھیں پارلیمان کی جانب بھاگتے ہوئے دیکھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے ایک کو گولی ماری، پھر ایک اور کو آتے دیکھا، میں نے چھ کو گولیاں ماریں جو سب کے سب ہلاک ہو گئے ہیں۔ میں اس ملک کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں۔‘
صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ انھیں عیسیٰ خان کے عزم اور بہادری پر فخر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

فوجی کمانڈر جنرل عبدالستار کا کہنا ہے کہ عیسیٰ خودکش حملہ آور کے بہت قریب تھے اور انھوں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کی مدد کے ساتھ حملہ آوروں کو مارا۔
انھوں نے عیسیٰ کے بارے میں مزید کہا کہ جو انھوں نے کیا ہے اس کے بعد وہ ہیرو ہیں۔
واضح رہے کہ اس حملے میں دو شہری ہلاک اور 40 کے قریب افراد زخمی ہوئے تھے۔
عیسیٰ خان نے الزام لگایا کہ اس حملے کے پیچھے پاکستان ہے۔ تاہم پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اس کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے افغانستان کے ساتھ مشترکہ کوششیں کر رہا ہے۔







